انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں 5 اکتوبر کو پی ٹی آئی کے لاہور میں احتجاج اور پولیس  پر تشدد سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ 5 اکتوبر 2024ء کو پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں احتجاج اور پولیس پر تشدد سے متعلق مقدمے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور، سابق وفاقی وزیر حماد اظہر سمیت پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے۔ انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں 5 اکتوبر کو پی ٹی آئی کے لاہور میں احتجاج اور پولیس  پر تشدد سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے وزیر اعلیٰ  خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے ناقابل وارنٹ گرفتاری جاری کردیے، پولیس کی درخواست پر  ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔ انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے، علی امین گنڈا پور سمیت پی ٹی آئی کے مزید 4 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔

جن رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہوئے ان میں سابق وفاقی وزیر، پی ٹی آئی کے سینئر رہنما حماد اظہر بھی شامل ہیں، ان کے علاوہ سعید سندھو اور شہباز احمد کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کے گئے۔ عدالت میں سماعت کے دوران لاہور پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ علی امین گنڈا پور سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنما شامل تفتیش نہیں ہو رہے، ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں، تھانہ مستی گیٹ پولیس کے مقدمہ درج کررکھا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ناقابل ضمانت وارنٹ وارنٹ گرفتاری جاری رہنماؤں کے کے ناقابل لاہور میں پی ٹی ا ئی علی امین

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں