پہلگام حملہ :بھارتی وزیراعظم مودی سعودی عرب کا دورہ مختصر کر کے وطن واپس پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
نئی دہلی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 اپریل ۔2025 )بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پہلگام حملے کے بعدسعودی عرب کا دورہ مختصر کر کے وطن واپس پہنچ گئے ہیں انہوں نے ایئرپورٹ پر ہی سکیورٹی پر ایک اجلاس کی صدارت کی سعودی ریاستی ادارے کی جانب سے جاری کردہ تصاویر کے مطابق مختصر دورے کے دوران مودی نے جدہ میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی.
(جاری ہے)
بھارتی وزیراعظم گزشتہ شام ہی دو دن کے دورے پر جدہ پہنچے تھے تاہم حملے کے فوری بعد انہوں نے اپنا دورہ مختصر کردیا اور آج صبح سویرے واپس دہلی پہنچ گئے ادھرپاکستانی وزارت خارجہ نے پہلگام حملے میں سیاحوں کی جانوں کے ضیاع پر تشویش کا اظہار کیا ہے پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ مرنے والوں کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں. بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم مودی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں پہلگام میں ہونے والے حملے پر بھارت کے ساتھ مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے” ایکس“ پر کہا کہ صدر ٹرمپ نے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی اور اس گھناﺅنے حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے دہلی سے مکمل تعاون کا اظہار کیا. اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریش نے بھی سیاحوں پر ہونے والے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے گوتیریش کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے ایک بیان میں کہا کہ سیکرٹری جنرل جموں و کشمیر میں ہونے والے مسلح حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عام شہریوں پر حملے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوتے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کہا کہ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔