شارجہ ریڈنگ فیسٹیول 2025 میں بچوں کا تخلیقی سفر: ایل ای ڈی سرکٹس سے روشنیوں کا کھیل
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
شارجہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل 2025ء) شارجہ چلڈرنز ریڈنگ فیسٹیول 2025 کے 16ویں ایڈیشن میں بچے نہ صرف کہانیاں پڑھ رہے ہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے انہیں روشنیوں میں تبدیل بھی کر رہے ہیں۔ فیسٹیول میں 600 سے زائد تخلیقی ورکشاپس اور سرگرمیوں میں "ڈیجیٹل کیوب" ورکشاپ نمایاں رہی، جس میں بچوں نے Minecraft گیم سے متاثر ہو کر ایل ای ڈی کیوبز تیار کیے۔
لبنان سے تعلق رکھنے والے کمپیوٹر سائنٹسٹ اور پہلی بار SCRF میں شریک محمود ہاشم نے بتایا: "یہ ایک سادہ مگر شاندار تجربہ ہے، جو ریاضی، انجینئرنگ، اور فن کو ایک جگہ لاتا ہے۔ ہم بچوں کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی سیکھنے کا عمل کتنا دلچسپ ہو سکتا ہے۔" بچے تیار شدہ ٹیمپلیٹس، کوائن بیٹری، کاپر ٹیپ، اور ایل ای ڈی کی مدد سے اپنے روشن کیوبز بنا رہے ہیں۔(جاری ہے)
11 سالہ ثناء صدیقی نے کہا، "مجھے سرکٹس کے بارے میں سیکھنا بہت مزے دار لگا، اب میں چاہتی ہوں کہ اپنے فیملی کے کارڈز میں بھی روشنی ڈالوں!" 12 سالہ عقیل اشرف نے دو ایل ای ڈیز کے ساتھ تجربہ کرتے ہوئے کہا، "میں ایک قلعہ بنانا چاہتا ہوں جو ایسے ہی روشن ہو جیسے گیم میں ہوتا ہے۔" ایکسپو سینٹر شارجہ میں 4 مئی تک جاری SCRF 2025، بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور ڈیجیٹل سیکھنے کو فروغ دینے کے مشن پر گامزن ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایل ای
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔