اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بھارتی مودی سرکار اے بی این نیوز کا سچ دکھائے جانے پر خوفزدہ ہوگئی ۔ بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کو بے نقاب کرنے پر مودی سرکار سیخ پا ، بھارت میں اے بی این نیوز دکھانے پرپابندی عائد کردی ۔

ذرائع کے مطابق پابندی کی زدمیں آنے والے پلیٹ فارمز میں پاکستانی چینل اے بی این نیوز بھی شامل ہے ۔یاد رہے کہ مودی سرکار کا ایجنڈا بھارتی عوام کو سچ سے دور رکھ کر ہندوتوا کو فروغ دینا ہے، بھارتی حکومت نے بھارت کیخلاف سخت ترین بیانیہ بنانے پر اے بی این نیوز کو بھارت میں دکھانے پر پابندی عائد کردی۔

بھارتی وزارت داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ یوٹیوب پلیٹ فارم بھارت اور اسکی فوج اور سکیورٹی ایجنسیوں کے خلاف سخت ترین پروپیگنڈا بیانیہ کو فروغ دیا گیا ہے ۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 16 پاکستانی چینلز پر پابندی عائد کردی گئی تھی ۔ پابندی کی زد میں آنے والے پلیٹ فارمز میں ڈان نیوز، سماء ٹی وی، اے آر وائی نیوز، بول نیوز، جیو نیوز، جی این این اور دیگر شامل ہیں، پابندی سے بھارت بھر میں تقریباً 63 ملین صارفین متاثر ہوئے ہیں۔نشانہ بننے والوں میں معروف سابق کرکٹر شعیب اختر بھی شامل ہیں، جن کے ذاتی چینل کے 3.

5 ملین سبسکرائبرز ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پابندی عائد کردی اے بی این نیوز

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم