بلوچستان: آئل ٹینکر میں آگ لگنے کے سبب دو افراد ہلاک، 56 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 29 اپریل 2025ء) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ایک مقامی پولیس افسر عطا اللہ نے منگل کے روز بتایا کہ بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پیر کو ایک آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی اور دھماکہ اس وقت ہوا جب فائر فائٹرز آگ بجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جائے وقوعہ پر موجود افراد اور فائر فائٹرز بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔
بہاولپور، آئل ٹینکر میں دھماکے سے کم از کم 148 افراد ہلاک
ہلاک ہونے والے دو افراد میں سے ایک اس آئل ٹینکر کا ڈرائیور اور دوسرا ایک راہ گیر تھا۔ زخمیوں میں سے قریب ایک درجن کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ کوئٹہ کے سول ہسپتال کے ترجمان وسیم بیگ نے بتایا کہ چند شدید زخمی افراد کو ہوائی جہاز کے ذریعے پاکستان کے جنوبی شہر کراچی لے جایا جا رہا ہے، جہاں بہتر طبی سہولیات دستیاب ہیں۔
(جاری ہے)
افغان ایران سرحد کے قریب سو آئل، گیس ٹینکر آتش زدگی میں تباہ
دریں اثنا بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سول ہسپتال کا دورہ کیا اور ڈاکٹروں کو متاثرین کو ہر ممکنہ طبی سہولت فراہم کرنے کی ہدایات دیں۔
پاکستان میں آئل ٹینکرز کی وجہ سے ہونے والے ہلاکت خیز حادثات کوئی غیر معمولی بات نہیں ہیں۔
افغان صوبے ہلمند میں مسافر بس اور آئل ٹینکر میں تصادم، اکیس افراد ہلاک
2017ء میں صوبہ پنجاب کے علاقے احمد پور شرقیہ میں 200 سے زائد افراد اس وقت لقمہ اجل بن گئے تھے جب ایک آئل ٹینکر سے لیک ہونے والے ایندھن کو جمع کرنے کے لیے وہاں بہت سے مقامی باشندے جمع تھے کہ اس ٹینکر کو آگ لگ گئی تھی اور ایک بہت خوفناک دھماکہ ہوا تھا۔
ادارت مقبول ملک
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے آئل ٹینکر میں
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک