بھارت دہشت گردی کا بڑا اسپانسر
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرنے اور ٹیرر فنانسنگ میں ملوث ہے، بھارتی دہشت گرد کی گرفتاری سے بھارتی آرمی کے ہینڈلرز بھی منظر عام پر آگئے ہیں۔
درحقیقت بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان میں امن اور ترقی ہو اور اس مقصد کے لیے وہ دہشت گردوں کا استعمال کرتا ہے۔ بھارت ہمیشہ الزام لگا کر پیچھے سے ضرور وار کرتا ہے، اور اس بار بھی ایسا ہی کیا، جو ناکام ہوا۔ بھارت خطے میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں ملوث ہے۔
ہم دہشت گردی کی جس آگ میں جھلس رہے ہیں، یہ بھارت کی ہی لگائی ہوئی ہے، تاکہ پاکستان یکسوئی کے ساتھ معیشت کی بحالی پر توجہ نہ دے سکے۔ گرفتار دہشت گرد سے ملنے والے ثبوتوں سے بھی بھارت کے براہ راست پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ عام رائے ہے کہ جو لوگ پاکستان کے ساتھ لڑ رہے ہیں، ان کو فنڈنگ ہو رہی ہے، اب ہندوستان کی طرف سے۔ ہندوستان خود تو براہ راست آ کر یہاں نہیں لڑ سکتا، اس لیے دونوں چیزیں قریب قریب ایک جیسی ہیں، کیونکہ دونوں کا نشانہ ایک ہی ہے، اور وہ ہے چین کا سی پیک روٹ۔ اسی لیے چین نے بھی واضح طور پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے کا اعلان کیا ہے۔
ورنہ وہ دو ممالک کے بیچ ایسے کیوں آتا، جب کہ ہندوستان اس کی اتنی بڑی مارکیٹ ہے؟ ہندوستان میں اس کا سامان جاتا ہے، ہندوستان سے سامان آتا ہے، اس کی تجارت کافی ہے، لیکن وہ جب اس تنازع میں آ گیا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا بڑا مفاد متاثر ہو رہا ہے، اسی لیے اس نے آواز اٹھا دی ہے۔ جتنے اردگرد کے دیگر ممالک ہیں، وہ بھی اس وقت چین اور پاکستان کے بلاک کے ساتھ کھڑے ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔
بھارت کا مقصد دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچانا ہے، بھارت سے زیادہ کسی ملک نے دہشت گردی کا استعمال نہیں کیا۔ بھارت دہشت گردوں کو بھرتی کرنے، ان کی مالی مدد کرنے والا ملک بنا ہوا ہے۔ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے لیے پاکستان اور کینیڈا بھارت کے اولین اہداف ہیں۔درحقیقت بھارت کے شر سے اُس کا کوئی بھی پڑوسی محفوظ نہیں ہے۔ بھارت اپنے منفی کردار کے حوالے سے پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ میں کھلم کھلا مداخلت کی تاریخ رکھتا ہے۔ مالدیپ کے صدر محمد معیزو ایک عرصے سے ’’انڈیا آؤٹ‘‘ کا نعرہ بلند کرتے آئے ہیں ۔
دنیا بھر میں بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی تاریخ بڑی پرانی اور شرمناک واقعات سے بھری پڑی ہے۔ کچھ عرصہ قبل قطر کی ایک عدالت نے بھارتی بحریہ کے آٹھ سابق اہلکاروں کو خلیجی ممالک میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے سنگین الزامات پر موت کی سزا سنائی ہے۔ یہ مجرم بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘ کے لیے کام کر رہے تھے۔
بھارت براہ راست کشمیری اور مسلمان رہنماؤں سمیت عالمی شخصیات کے قتل میں ملوث ہے۔ بھارت نے جمہوریت کے پیچھے اپنا دہشت گردانہ چہرہ چھپا رکھا ہے۔ بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی کو دنیا کیسے نظرانداز کرسکتی ہے؟ بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سب کے سامنے ہیں، بھارت کی ریاستی دہشت گردی کینیڈا اور برطانیہ تک پہنچ چکی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ دہشت گردانہ اقدامات پر بھارت سے پوچھ گچھ کریں، ایف اے ٹی ایف بھارت کو بلیک لسٹ کر کے اقتصادی و تجارتی پابندیاں عائد کرے۔
بھارت ہر بار پاک افغان صورت حال کا فائدہ اٹھاتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ انڈین خفیہ ایجنسی ’را‘ افغانستان میں سرگرم ہے اور وہاں دہشت گردوں کو فنڈنگ کر کے پاکستان کے خلاف اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ دہشت گردوں کا کام پاکستان میں بد امنی پھیلانا ہے اور فنڈ ملے تو انھیں آسانی ہوتی ہے۔
کون نہیں جانتا بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ نے1970 میں مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کی مدد کی، علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کی۔ اس حوالے سے بہت سی دستاویزات موجود ہیں، ثبوتوں سے الماریاں بھری پڑی ہیں۔ اسی طرح بھارت نے 80 کی دہائی کے دوران منتخب جمہوری سری لنکن حکومت کے خلاف تامل ٹائیگرز کی حمایت کی۔ تامل ٹائیگرز سری لنکا حکومت کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔
پاکستان کے امن و امان کو تباہ کرنے کے لیے بھارت، افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں کی سرپرستی اور مالی معاونت کر رہا ہے۔ بھارت ہی ٹی ٹی پی کا سرپرست اور کفیل ہے اور وہ ہی اس کے الگ الگ گروہوں پر کنٹرول رکھتا ہے۔ پاکستان نے دہشت گرد اور کالعدم جماعتوں جماعت الاحرار اور حزب الاحرار پر پابندی عائد کی جب کہ بھارت نے ان دونوں جماعتوں کو یکجا اور منظم کرنے کے لیے کام کیا۔
ان دونوں جماعتوں کے بیس کیمپ افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ننگرہار میں موجود ہیں۔ بھارت ٹی ٹی پی کی مالی اعانت کر کے یو این سیکیورٹی کونسل کی بین الاقوامی قرارداد کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اس وقت پاکستان میں جاری دہشت گردی کے تانے بانے بھارت سے ہی ملتے ہیں، دہشت گردوں کی ڈوریں بھارت سے ہلائی جارہی ہیں۔ بھارت نے ریاستی دہشت گردی کو اپنی پالیسی میں شامل کیا ہوا ہے، لیکن الزام پاکستان پر لگاتا ہے۔ عالمی برادری جب تک بھارت پر پابندیاں نہیں لگاتی دنیا کا امن خطرے میں رہے گا۔
یہ بات کئی بار ثابت ہوچکی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے میں بھارت سمیت کئی ممالک کا ہاتھ ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انالسس ونگ (را) متعدد بار پاکستان میں دہشت گردوں کو فنڈنگ، تربیت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے میں ملوث پائی گئی ہے۔ پاکستان نے عالمی سطح پر بھارت کی مداخلت کے کئی ثبوت پیش کیے ہیں جن میں بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر کلبھوشن سدھیر یادیو کی گرفتاری سب سے اہم مثال ہے۔
بھارت کے علاوہ کچھ دیگر ممالک بھی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ افغانستان میں موجود دشمن قوتیں پاکستان مخالف تنظیموں کو سہولتیں فراہم کرتی ہیں اور افغان طالبان کی عبوری حکومت بھی اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کرنے کے بجائے ان گروہوں کی پشت پناہی کرتی دکھائی دیتی ہے جو پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
اس کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے جو دہشت گرد پکڑے گئے ہیں وہ بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ ان کی مدد کررہی تھی۔ افغانستان میں بھارت بہت سے لوگوں اور تنظیموں کو پاکستان کے خلاف بھڑکاتا رہا ہے اور انھیں پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ دیکھا جائے تو وزیراعظم مودی نے بڑی محنت سے بھارت کو امن دشمن، دہشت گردوں کا سہولت کار اور منی لانڈرنگ کرنے والا بڑا ملک بنادیا ہے۔
درحقیقت بھارت کی ریاستی دہشت گردی نے دنیا بھر کو چونکا دیا ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کئی ممالک میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے۔ بھارت ایک منہ زور ریاست اور دہشت گردی کا بڑا اسپانسر بن چکا ہے، جس سے پوری دنیا کا امن خطرے میں ہے۔ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھارتی حکومت کی منظوری سے ہو رہے ہیں۔ پاکستان چین اقتصادی راہداری (سی پیک) بھارت کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے۔
ان منصوبوں پر کام کرنے والے کئی چینی انجینئرز اور پاکستانی شہری دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔بھارت بلوچستان میں سی پیک کے خلاف بلوچوں کو گمراہ کرنے اور اسلحہ اٹھانے کی ترغیب دے رہا ہے۔ بھارت اپنے سیاسی و معاشی مفادات کے لیے عالمی تنظیموں کو استعمال کر رہا ہے۔ خطے میں دہشت گردی کے لیے دہشت گردوں کوبھرتی کر رہا ہے۔
وہ دہشت گرد تنظیموں کو مالی مدد، اسلحہ، تربیت اور ہر قسم کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔ بھارت کے دہشت گردانہ منصوبے نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہیں، اگر بھارت کی دہشت گردی کے باعث اس خطے میں جنگ چھڑی تو اس کی لپیٹ میں پوری دنیا آئے گی۔ بھارت اور پاکستان دونوں کسی نئی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ وہ افہام و تفہیم کے ذریعے اپنے تنازعات کو حل کریں اور غربت کے خاتمے پر پوری توجہ دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان میں دہشت ریاستی دہشت گردی افغانستان میں دہشت گردوں کو دہشت گردی کے دہشت گردی کا خفیہ ایجنسی میں ملوث ہے پاکستان کے تنظیموں کو استعمال کر میں بھارت کر رہا ہے بھارت نے بھارت کی بھارت سے بھارت کے کے ساتھ رہے ہیں کرنے کے کے خلاف کے لیے ہے اور
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔