میڈیا کو جھوٹ، فیک نیوز، پرو پیگنڈے، غیر ملکی ایجنڈوں اور سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے استعمال نہ ہونے دیا جائے، وزیر اعظم شہباز شریف کا آزادی صحافت کے عالمی دن پر پیغام
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 مئی2025ء) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی مفادات کے حوالہ سے پاکستانی میڈیا کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا تک حقائق پہنچانے کی جد و جہد میں صحافیوں کی قربانیاں تاریخ کا سنہری باب ہے ، میڈیا کو جھوٹ، فیک نیوز، پرو پیگنڈے، غیر ملکی ایجنڈوں اور سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے استعمال نہ ہونے دیا جائے، پاکستان کا آئین اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے ۔
جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے آزادی صحافت کے عالمی دن پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے میڈیا ورکرز کو خراج تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے بالخصوص ان بہادر مرد و خواتین صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران قربان ہو کر امر ہو گئے۔(جاری ہے)
وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا تک حقائق کی فراہمی کی جد و جہد میں صحافیوں کی قربانیاں تاریخ کا سنہری باب ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم آج کے دن صحافت سے وابستہ بہادر کارکنوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو اطلاعات کی آزادانہ ترسیل اور حقائق کی جانچ پرکھ کرکے عوام تک حقائق پہنچانے اور دنیا کو آگاہ رکھنے کے فرض کی ادائیگی میں کبھی کو تا ہی نہیں کرتے، ماضی کی روایات سے جدید شہری صحافت تک، میڈیا وقت اور معاشرے کے ساتھ آگے بڑھتا رہا ہے،کسی بھی دور میں اس کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنا لوجی نے اس کے دائرے، افادیت اور اثر پذیری کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔آج بھی میڈیا اجتماعیت کا مظہر ہے جس کی اہمیت ہمیشہ کی طرح معاشرے میں کلیدی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جدید دنیا میں آزادی اظہار کے تحفظ کی ایک اہم ضرورت یہ بھی ہے کہ میڈیا کو جھوٹ، فیک نیوز، پرو پیگنڈے، غیر ملکی ایجنڈوں اور سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 7اکتوبر 2023 سے 3 مئی 2025 تک کا دور صحافیوں کے لئے اکیسویں صدی کا سب سے خونی دور ثابت ہوا ،انٹرنیشنل فیڈ ریشن آف جرنلسٹس کے مطابق غزہ ،فلسطین میں کام کرنے والے 166 صحافی اور میڈیا ورکرز اسرائیلی ظلم و بر بریت کا نشانہ بنے،غزہ کی حکومت کے میڈیا آفس کے مطابق 202 صحافی اسرائیلی جارحیت میں قتل ہوئے۔’’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس ‘‘کے مطابق اس سے پہلے اتنی مہلک اور خونی جنگ نہیں دیکھی گئی جس میں اتنی بڑی تعداد میں صحافی اپنی جان سے گئے ہوں۔’’رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز ‘‘ کے مطابق اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر فلسطینی و لبنانی صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو نشانہ بنایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ غیر بھارت کےغیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جہاں قابض 9 لاکھ بھارتی فوج بنیادی انسانی حقوق کو بندوق کے زور پر کچل رہی ہے وہاں صحافت اور صحافیوں پر کڑی پابندیاں عائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں قومی مفادات کے حوالے سے پاکستانی میڈیا کے ذمہ دارانہ کردار کی تحسین کرتا ہوں جس نے حالیہ بھارتی آبی جارحیت اور حقائق سے مبرا الزام تراشی کیلئے میڈیا کے استعمال کا حقائق اور سچ سے مقابلہ کیا اور بھارت کے خطے میں جنگ کی فضا پیدا کرنے کے مذموم مقاصد کو خاک میں ملایا۔ مجھے امید ہے کہ ہمارا ذمہ دار میڈیا اسی طرز پر قومی و عوامی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے کاوشوں کی حمایت اور ہماری رہنمائی کرتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین رائے اور اظہار کی آزادیوں کا امین اور ضامن ہے، حکومت پاکستان عوامی نمائندہ جماعت کے طور پر ہمیشہ آئین میں دی گئی آزادیوں کی محافظ رہی ہے،صحافت کو آئین اور جمہوریت کی روح سمجھتے ہوئے ہم نے ہمیشہ شہریوں اور آزادی رائے کے لئے اہل صحافت کے ساتھ مل کر جد و جہد کی ہے اور آئندہ بھی ان مشترکہ مقاصد کے حصول کے لئے ہماری کاوشیں جاری رہیں گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے صحافیوں کی زندگی اور صحت کے تحفظ، سازگار ماحول کی فراہمی، مالی مفادات اور تنخواہوں کی ادائیگی اور آجر واجیر کے حوالے سے میڈیا ورکرز کے جائز مسائل کے حل کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے،مختلف قانونی فورمز کے ذریعے ان حقوق کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے، ہم قوانین کی بہتری سے صحافت کی آزادی اور درست معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے، فیک نیوز کے خاتمے کے لئے میڈیا کے ساتھ مل کر قوانین تیار کئے، آئندہ بھی اہل صحافت کی مشاورت، تعاون اور تائید سے اس ضمن میں اصلاحات کا عمل جاری رکھیں گے، وزارت اطلاعات و نشریات اور اس کے متعلقہ ذیلی اداروں کے ذریعے صحافیوں اور صحافت کی بہتری کے لئے مزید اقدامات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ صحافت کے عالمی دن پر تمام میڈیا ورکرز سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت صحافیوں کی بہتری کے لئے پورے خلوص دل سے آپ کے ساتھ مل کر کام کرے گی، ایک ذمہ دار جمہوری معاشرے کے طور پر ہماری اجتماعی ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ صحافت حقائق، اخلاقیات اور آزادی پر مبنی عوامی بھلائی کی خدمت جاری رکھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیراعظم نے کہا کہ میڈیا ورکرز صحافیوں کی کی فراہمی صحافت کے میڈیا کے انہوں نے فیک نیوز کے مطابق کے ساتھ کے لئے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ