اسحاق ڈار کے یونان و سوئس وزرائے خارجہ سے رابطے، پاک بھارت کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
اسحاق ڈار کے یونان و سوئس وزرائے خارجہ سے رابطے، پاک بھارت کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال WhatsAppFacebookTwitter 0 3 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دنیا کے اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے سفارتی رابطے جاری ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے یونان اور سوئٹزرلینڈ کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور انہیں خطے میں پاک بھارت کشیدگی اور پہلگام واقعے کے بعد کی صورتحال سے تفصیلا آگاہ کیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ نے یونانی ہم منصب سے رابطے میں بھارت کے بے بنیاد الزامات اور پراپیگنڈے سے متعلق آگاہ کیا اور پاکستان کے مقف کا اعادہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدار، شفاف اور بین الاقوامی تحقیقات ہونی چاہئیں۔یونانی وزیر خارجہ نے کشیدگی کے خاتمے کے لیے تحمل سے کام لینے پر زور دیا اور پاکستان کی طرف سے آزاد تحقیقات کی تجویز کو سراہا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی و عالمی امور پر قریبی روابط برقرار رکھنے پر اتفاق بھی کیا۔
اس کے علاوہ، وزیر خاجہ اسحاق ڈار اور سوئٹزر لینڈ کے وزیر خارجہ اجنازیو کاسیس کے درمیان بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں وزیر خارجہ نے بھارتی اقدامات اور خطے میں امن و استحکام کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا۔ اسحاق ڈار نے بھارت کے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات میں پاکستان کی مکمل معاونت کی پیشکش دہرائی۔ اس موقع پر سوئس وزیر خارجہ نے پہلگام واقعے کی تحقیقات میں سہولت کاری اور غیر جانبدار تحقیقات کے لیے مناسب طریقہ کار طے کرنے میں معاونت کی پیشکش کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپہلگام واقعے میں ہمارے ہاتھ صاف ہیں، بھارت نے حملہ کیا تو بھرپور جواب ملے گا، عطا تارڑ پہلگام واقعے میں ہمارے ہاتھ صاف ہیں، بھارت نے حملہ کیا تو بھرپور جواب ملے گا، عطا تارڑ آسٹریلوی وزیراعظم دوسری بار بھی منتخب، لیبر پارٹی کی تاریخی فتح بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کا جھوٹ بھی بے نقاب، تجزیہ کاروں نے راز فاش کر دیا کشمیرکا حل ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیح ہونا چاہئے، صرف مرہم پٹی نہیں، پاکستانی سفیر بھارت کا پاکستان سے فضائی اور زمینی راستوں سے ڈاک اور پارسل کے تبادلے معطل کرنے کا فیصلہ کینالز سے متعلق بلاول کا دعوی درست ثابت ہوا تو عارف علوی کو شوکاز دیا جائے گا، علی محمدCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔