ملکی سلامتی کی صورتحال پر اے پی سی بلانی چاہیے تھی، پی ٹی آئی کا بریفنگ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ملکی سلامتی کی موجودہ صورت حال پر وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورت حال میں ضروری تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی جاتی۔
ایک بیان میں پی ٹی آئی نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ ہر قسم کی دہشتگردی کی دوٹوک اور غیر مبہم الفاظ میں مذمت کی ہے۔ عمران خان جو اس وقت ناجائز طور پر قید میں ہیں، انہوں نے جیل سے بھی قوم کے نام اپنے پیغامات میں واضح طور پر نہ صرف دہشت گردی کی مذمت کی بلکہ قومی یکجہتی، اتحاد اور داخلی استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں پہلگام واقعہ: سوئٹزر لینڈ کے بعد یونان نے بھی پاکستان کی تجویز کی حمایت کردی
بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کا مؤقف خود وضاحتی ہے، اور انہوں نے جس بصیرت اور جرأت کے ساتھ قوم کو متحد ہونے کا پیغام دیا، وہ ایک قومی رہنما کی سوچ کا عکاس ہے۔
بیان کے مطابق تحریک انصاف واضح مؤقف ہے کہ کسی بھی بیرونی جارحیت کی صورت میں ہم ملک اور قوم کے دفاع کے لیے صفِ اول میں کھڑے ہوں گے۔ اس قومی مؤقف کو ہم نے اپنے یومِ تاسیس کے موقع پر بھی واضح کیا، جب پاکستان تحریک انصاف نے ایک باقاعدہ قرارداد منظور کی، جس میں پارٹی نے بھارتی جارحیت اور پروپیگنڈا سے متعلق اپنے اصولی مؤقف کو پوری قوم کے سامنے رکھا جو اس بات کی علامت ہے کہ تحریک انصاف ہر سطح پر قومی سلامتی، خودمختاری اور یکجہتی کے لیے سنجیدہ اور ہمہ وقت تیار ہے۔
پی ٹی آئی نے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں حالیہ حساس حالات میں حکومت کو فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانی چاہیے تھی، تاکہ تمام قومی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جاتا۔ بدقسمتی سے حکومت نے یہ موقع ضائع کیا۔
’نہ صرف اے پی سی نہیں بلائی گئی بلکہ اس کی جگہ ایک حکومتی وزیر کی طرف سے یک طرفہ بریفنگ دی جا رہی ہے۔‘
پی ٹی آئی نے کہاکہ عمران خان اور تحریک انصاف ہی وہ آواز ہیں جو عوام کے حقیقی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ عمران خان نے ہمیشہ قومی اتحاد، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سیاسی استحکام کی بات کی ہے اور وہ کسی قسم کی تقسیم، تفرقہ یا کمزوری کے حامی نہیں رہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق چونکہ یہ محض ایک حکومتی بریفنگ ہے، نہ اس میں کوئی قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی سنجیدہ کوشش نظر آتی ہے، اور نہ ہی عمران خان جیسے اہم قومی رہنما کو شامل کرنے کی نیت ہے، اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ اس بریفنگ میں پاکستان تحریک انصاف کی شرکت ضروری نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں ابدالی میزائل ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، رانا ثنااللہ نے بھارت کو خبردار کردیا
پی ٹی آئی نے کہاکہ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ تحریک انصاف اس حکومتی بریفنگ میں شرکت نہیں کرےگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آرمی چیف بریفنگ پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ سیاسی جماعتیں فوجی ترجمان قومی سلامتی ملکی سلامتی وزیر اطلاعات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رمی چیف بریفنگ پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ سیاسی جماعتیں فوجی ترجمان قومی سلامتی ملکی سلامتی وزیر اطلاعات وی نیوز پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی نے کہاکہ بریفنگ میں اے پی سی
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔