پاکستان پر بھارتی حملے میں استعمال ہونے والا اسرائیلی ہیروپ ڈرون کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنی پریس کانفرنس میں ہیروپ ڈرونز کا ذکر کیا، ہیروپ ڈرون اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز (آئی اے آئی) کے ایم بی ٹی میزائل ڈویژن کی جانب سے تیار کردہ ایمونیشن کا نظام ہے۔
آئی اے آئی کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق اسے ایمونیشن کو میدان جنگ میں بھیجنے اور آپریٹر کے احکام پر حملہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ہیروپ خاص طور پر مخالف فریق کے فضائی دفاع اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کے لیے جانا جاتا ہے، اس میں ایک یو اے وی (بغیر پائلٹ کی فضائی گاڑی) اور میزائل کی خصوصیات یکجا ہیں، اور خود سے پرواز کی صلاحیت رکھنے والا ’ہوائی ہتھیار‘ ہے۔
یہ ڈرون مکمل طور پر خود مختار طریقے سے کام کرسکتا ہے، یا دستی طور پر اسے ’ہیومن ان دی لوپ‘ موڈ میں چلایا جاسکتا ہے، اگر کسی ہدف کو نشانہ نہ بنا پائے تو یہ ڈرون واپس آکر خود کو اڈے پر اتار سکتا ہے۔
ہیروپ اپنے فولڈنگ پروں کے ساتھ ٹرک یا بحری جہاز پر نصب کنستر سے لانچ کیا جا سکتا ہے اور فضائی پرواز بھر سکتا ہے۔
جامشورو کی مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فہد عرفان صدیقی نےنجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ہیروپ ملٹری گریڈ ٹیکنالوجی ڈرون ہے، یہ ڈیٹا جمع کرنے اور پے لوڈ انسٹال حملوں سمیت متعدد مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایگری اور سول سروے ڈرونز میں جیمرز نصب ہوتے ہیں، جو یو ایچ ایف فریکوئنسیز کو بلاک کرکے اپنے بیس اسٹیشن سے منقطع ہوجاتے ہیں، لیکن ملٹری گریڈ کے ڈرونز کو سیٹلائٹ کے ذریعے چلایا جاتا ہے، ان کی ریڈیو فریکوئنسی کو بلاک کرنا مشکل ہے، ایک انتہائی جدید فوجی ٹیکنالوجی کو سیٹلائٹ کے ذریعے روکا جا سکتا ہے (تاہم اس پر بحث ہوسکتی ہے)۔
ڈاکٹر فہد عرفان نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جن ڈرونز کے بارے میں ہم شہ سرخیوں میں سن رہے تھے، وہ کواڈ کوپٹر قسم کے لگ رہے تھے، جن کا سراغ لگانا مشکل تھا، لیکن وہ مہلک نہیں تھے۔
بین الاقوامی قانون کے مطابق 250 گرام سے زائد وزن والے کسی بھی ڈرون کو متعلقہ ملک کی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے، کم وزن والے ڈرونز کو عام طور پر کھلونا ڈرون سمجھا جاتا ہے، اور اکثر تفریحی مقاصد جیسے فوٹوگرافی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ان کے لیے عام طور پر لائسنس کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
250 گرام سے زیادہ وزنی ڈرونز سخت قوانین کے تابع ہیں، اور ان پر حساس فوجی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور بعض سرکاری عمارتوں کے 5 کلومیٹر کے دائرے میں پرواز کرنے پر پابندی ہے، ان علاقوں کو نو فلائی زون کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، اس کے علاوہ بین الاقوامی سرحدوں کے قریب بھی 5 کلومیٹر کے بفر زون کا یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔
ٹی آر ٹی گلوبل کے مطابق بھارت نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اسرائیل سے 2 ارب 90 کروڑ ڈالر مالیت کے فوجی ہارڈ ویئر درآمد کیے، جن میں ریڈار، نگرانی اور لڑاکا ڈرون اور میزائل شامل ہیں۔
اس سے قبل 2016 اور 2020 میں آذربائیجان نے آرمینیا کے خلاف ناگورنو-کاراباخ تنازع میں ہیروپ کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا تھا۔
مبینہ طور پر حملہ آور ڈرون نے فوجیوں سے بھری ایک بس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ان میں سے نصف درجن ہلاک ہو گئے تھے اور بس تباہ ہو گئی تھی۔
حالیہ برسوں میں، ڈرون ایک برآمدی کامیابی بن گیا جس میں بھارت اور آذربائیجان نے اس نظام کو خریدا ہے۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جاتا ہے سکتا ہے کے لیے
پڑھیں:
قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
بھارتی ریاست آسام میں قدرت کے انوکھے مظاہر میں شمار ہونے والے ہولونگ درخت کے منفرد ’ہیلی کاپٹر پھل‘ ایک بار پھر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی کا صدیوں پرانا شاہ بلوط کا درخت پریمیوں کا پیغام رساں کیسے بنا؟
ڈیپٹیروکارپس ریٹوسس المعروف ہولونگ ایک مضبوط اور بلند قامت درخت ہے جو تقریباً 60 میٹر تک بلند ہو سکتا ہے۔ یہ درخت جنوب مشرقی ایشیا میں پایا جاتا ہے اور مقامی ثقافتوں میں اسے خاص اہمیت حاصل ہے جبکہ اس کی لکڑی تعمیرات، فرنیچر سازی اور کشتیوں کی تیاری میں استعمال کی جاتی ہے۔
Hollong seeds are a stunning local example of nature's autorotating 'helicopters'! ????????
Globally, maple samaras inspired much of the research into this principle for real helicopters and drones.
The origin of helicopter autorotation (and modern drone/micro-flyer designs) is… https://t.co/jKXLuMq5nR
— Chinnu Senthilkumar (@chinnusenthil1) May 20, 2026
اس درخت کی سب سے دلچسپ خصوصیت اس کے 2 پروں والے پھل ہیں جو شاخوں سے گرنے کے دوران ننھے ہیلی کاپٹر کی طرح گھومتے ہوئے نیچے آتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ قدرتی نظام بیجوں کو درخت سے دور زرخیز زمین تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے جہاں ان کی افزائش کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیے: کچھ درخت جان بوجھ کر آسمانی بجلی کو گرنے کی دعوت کیوں دیتے ہیں؟
خشک موسم میں جب درجنوں یہ پھل آسمان سے گھومتے ہوئے زمین کی طرف اترتے ہیں تو یہ منظر دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتا ہے۔
حال ہی میں ایسے ہی ایک منظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس نے اس قدرتی مظہر کو عالمی توجہ دلائی۔
مزید پڑھیں: فضائی کمپنی نے مسافر کو جہاز سے اترجانے کے لیے 3 ہزار ڈالر کی پیشکش کیوں کی؟
بھارتی ریاست آسام کو اس نظارے کے لیے بہترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ہولونگ وہاں بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہولونگ کو آسام کا سرکاری درخت بھی قرار دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جنوب مشرقی ایشیا جنوب مشرقی ایشیا کا حیرت انگیز درخت ہولونگ درخت ہولونگ درخت کے ہیلی کاپٹر پھل‘ ہیلی کاپٹر پھل