روبرٹ پری ووسٹ نئے پوپ منتخب ہو گئے ، چمنی سے سفید دھوئیں کا اخراج
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
روبرٹ پری ووسٹ نئے پوپ منتخب ہو گئے ، چمنی سے سفید دھوئیں کا اخراج WhatsAppFacebookTwitter 0 8 May, 2025 سب نیوز
ویٹی کن سٹی (سب نیوز)ویٹی کن کے سینٹ پیٹرز کی چمنی سے سفید دھواں اٹھنے لگا جس کا مطلب ہے کہ کارڈینلز انکلیو میں نئے پوپ کے نام پر متفق ہوگئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سینٹ پیٹرز اسکوائر کے باہر موجود ہزاروں افراد میں اس وقت خوشی کی لہر دوڑ گئی جب چمنی سے سفید دھواں اٹھا۔سفید دھوئیں کو اڑتا دیکھ کر وہاں موجود ہزاروں افراد نے نعرے لگائے اور جشن منایا، جن میں نن اور عام افراد بھی شامل ہیں۔
کیتھولک چرچ کے نئے پوپ روبرٹ پروسٹ ہیں جو جلد ہی وہ سینٹ پیٹرز بیسلکا کی بالکونی پر عوام کے سامنے آئیں گے۔سیٹ پیٹرز کے باہر موجود ہزاروں افراد اس تاریخی لمحے کے شدت کے ساتھ منتظر ہیں جب نئے پوپ بالکونی میں آئیں گے۔
یاد رہے کہ پوپ فرانسس 24 اپریل کو انتقال کرگئے تھے جب کہ نئے پوپ کے انتخاب کے لیے دنیا بھر سے 133 کارڈینلز کا انکلیو میں اجلاس جاری تھا۔اجلاس کے آج دوسرے روز ہی نئے پوپ کے نام پر اتفاق ہوگیا ہے جس کی اطلاع چمنی سے سفید دھوئیں کا اکراج کرکے کیا جاتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک بھارت کشیدگی، سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ کل پاکستان کا دورہ کرینگے پاک بھارت کشیدگی، سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ کل پاکستان کا دورہ کرینگے مولانا فضل الرحمان کا کل ملک بھر میں دفاع وطن منانے کا اعلان بھارت سے جنگ کی صورت میں 79 فیصد پاکستانیوں کو جیت کا یقین سیکیورٹی ذرائع نے بھارتی میڈیا پر ایف 16گرانے کی خبر کو سفید جھوٹ قرار دیدیا کراچی ایئر پورٹ کو فلائٹ آپریشن کیلئے رات 12 بجے تک بند کرنے کا فیصلہ،نوٹم جاری پاکستان اور بھارت کے 125طیاروں کی ایک گھنٹہ طویل لڑائی ہوئی، سی این اینCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چمنی سے سفید سفید دھوئیں نئے پوپ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔