امریکی، برطانوی، فرانسیسی میڈیا اور ماہرین پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کے معترف
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان کی جانب سے بھارتی جارحیت کے دفاع اور جوابی کارروائی میں جنگی کمالات دکھانے پر امریکہ، برطانیہ اور فرانس جیسے جدید ممالک کے صحافتی ادارے اور ماہرین پاکستان کی جنگی صلاحیتوں کے معترف ہو گئے۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق برطانوی جریدے ٹیلی گراف نے پاکستان کی موثر دفاعی حکمت عملی کو سراہتے ہوئے لکھا کہ رافیل جیسے جدید بھارتی طیاروں کی تباہی بھارت کے لئے تضحیک آمیز شکست ہے، پاکستان کی فضائیہ فضاوں کی حکمران ہے۔ٹیلی گراف کے مطابق پاکستانی طیاروں نے ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے جدید میزائل استعمال کرتے ہوئے 5 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے اور پاکستان نے رافیل جیسے مہنگے بھارتی طیارے گرا کر نہ صرف اپنی فضائی برتری ثابت کر دی بلکہ عالمی سطح پر عسکری ماہرین کو حیران کر دیا۔
بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ بھارت کی حکمت عملی ناکام رہی اور پاکستان کو فوجی محاذ پر برتری حاصل ہوئی جبکہ بھارت فیصلہ کن ضرب لگانے میں ناکام رہا، پاکستان کی فضائی طاقت بھارت کیلئے چیلنج ہے، اربوں خرچ کر کے بھی بھارت کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
برطانیہ کے تاریخ دان اور دفاعی مطالعہ کے ماہر مائیکل کلارک نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ’ساکھ‘ کی جنگ تھی، پاکستان نے بھارت کے ساتھ جنگ میں جو ہتھیار استعمال کئے، ان سے بھارت حیران ضرور ہوا ہوگا، بھارت کو پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں اور جنگ میں استعمال کئے گئے ملٹری ہارڈویئر پر حیرت ہوئی ہوگی، پاکستان کی مسلح افواج کو خطے میں کافی اثرورسوخ حاصل ہے۔
بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ و بین الاقوامی شہرت یافتہ مصنف ششی تھرور نے پاک فوج کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک بہت بڑی فوج والا ملک ہے، کچھ دوستوں سے سنا ہے کہ پاکستان کے پاس جدید ترین ہتھیار ہیں، میں نہیں سمجھتا مودی حکومت کو مزید کسی مہم جوئی کا آغاز کرنا چاہئے۔
بین الاقوامی ملٹری جریدے دی نیشنل انٹریسٹ نے بھی پاک فوج کی برتری کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا کہ پانچ بھارتی جنگی طیاروں کو مار گرانا پاکستان کی زبردست کامیابی ہے، پاک فضائیہ نے بھارتی افواج کی کئی خامیوں کو اجاگر کیا، رافیل طیاروں کا نقصان بھارت کی عسکری ساکھ کیلئے دھچکا ہے۔
فرانسیسی اخبار لی موندے کی صحافی سوفی لاندریں کے مطابق پاکستانی فضائیہ کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ ا±ن کے پائلٹوں کی اعلیٰ تربیت اور جنگی تجربہ ہے، پاکستانی پائلٹ طویل عرصے سے افغان سرحد کے ساتھ واقع قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف فضائی کارروائیوں میں مصروف رہے ہیں جبکہ بھارت نے عمومی طور پر پرامن حالات میں کام کیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے انٹرنیشنل ڈپلومیٹک ایڈیٹر نک رابرٹسن نے ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ بھارتی حملے کے بعد پاکستان نے بھارت پر نہ رکنے والے میزائلوں کی بارش کردی، پاکستانی میزائل حملوں کے بعد بھارت مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوا اور پاکستان میزائلوں کی وجہ سے بھارت جنگ بندی کی طرف بڑھا۔
پھینٹیاں لائیاں نے انڈیا نو پھینٹیاں لائیاں نے , چٹیاں کلائیاں وے گانے کی زبردست پیروڈی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستان کی کہ بھارت بھارت کی
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔