Islam Times:
2026-06-03@04:28:16 GMT

نیتن یاہو کی جلن

اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT

نیتن یاہو کی جلن

اسلام ٹائمز: ڈونلڈ ٹرمپ بحیرہ عرب سے لے کر بحیرہ روم تک ایک سیکورٹی اقتصادی بلاک تشکیل کرنا چاہتا ہے اور اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ مقصد اسرائیل کی یکہ تازیوں اور تسلط پسندی کے ساتھ حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ اسلامی ممالک کسی صورت میں بھی فلسطین کاز سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہیں۔ مسئلہ فلسطین خاص طور پر طوفان الاقصی آپریشن کے بعد عالمی سطح پر اور اسلامی دنیا میں انتہائی درجہ اہمیت اختیار کر چکا ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹلی کے ڈانز کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہوتے ہوئے حماس سے براہ راست مذاکرات انجام دے کر نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ وہ غلط راستے پر گامزن ہے اور اس سے پہلے کہ صورتحال بے قابو ہو جائے عقلمندی کا راستہ اختیار کرے۔ امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نئے منصوبے کے ساتھ تل ابیب گیا ہے جس کا مرکزی خیال خطے میں خودمختار فلسطینی ریاست کی تشکیل پر استوار ہے۔ تحریر: سید رضا حسینی
 
حال ہی میں فلسطین میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس اور امریکی حکومت کے درمیان عارضی جنگ بندی کا براہ راست معاہدہ طے پا گیا ہے۔ امریکہ نے حماس کو ایک امریکی نژاد اسرائیلی فوجی کی آزادی کے بدلے عارضی جنگ بندی کی پیشکش کی تھی جسے حماس نے قبول کر لیا تھا۔ اتوار کے روز حماس نے اس امریکی نژاد اسرائیلی فوجی جس کا نام عیدان الیگزینڈر بتایا جاتا ہے کو آزاد کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جس کے فوراً بعد امریکہ کے خصوص ایلچی ویٹکوف نے حماس کے نمائندوں سے مذاکرات کیے اور جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا۔ یاد رہے یہ اسرائیلی فوجی 7 اکتوبر 2023ء کے دن طوفان الاقصی آپریشن کے دوران حماس کے ہاتھوں یرغمالی بنا لیا گیا تھا۔ حماس نے اس جنگ بندی معاہدے کے تحت کل ہی عیدان الیگزینڈر کو امریکہ کے حوالے کر دیا ہے۔
 
امریکہ اور حماس کے درمیان یہ معاہدہ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی مکمل لاعلمی کی حالت میں انجام پایا ہے۔ اتوار کے دن جب سب کچھ طے پا چکا تھا تب ہی تل ابیب کو اس معاہدے کی اطلاع دی گئی تھی اور حتی امریکی حکومت اور حماس کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں بھی اسے کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ اسرائیل کو ان مذاکرات سے بے دخل رکھنا ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں نئی امریکی حکومت اور بنجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں صیہونی کابینہ کے درمیان گہری خلیج اور اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔ اس بارے میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک باخبر ذریعے کے بقول اعلان کیا ہے کہ مغربی ایشیا کے لیے وائٹ ہاوس کے خصوصی نمائندے اسٹیو ویٹکوف نے صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی منصوبے سے آگاہ کیا ہے۔
 
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکہ نے اس خصوصی منصوبے کو تل ابیب کے لیے آخری موقع قرار دیا ہے۔ اس بارے میں حماس کے سیکرٹری جنرل خلیل الحیہ نے ایک بیانیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے: "امریکی نژاد اسرائیلی فوجی کو آزاد کرنے کا فیصلہ امریکی حکام سے مذاکرات کے بعد انجام پایا ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "یہ مذاکرات عارضی جنگ بندی اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کی خاطر انجام پائے تھے۔" اسی طرح صیہونی ٹی وی کے چینل 12 نے امریکی حکومت اور حماس کے درمیان اس معاہدے کے بارے میں اپنی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے امریکی صدر نے بنجمن نیتن یاہو کو زوردار طمانچہ دے مارا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ غاصب صیہونی رژیم کی فوجی جارحیت میں اب تک کل 52 ہزار 800 فلسطینی شہید جبکہ 1 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
 
صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی جنگی کابینہ کے ہمراہ حماس سے مذاکرات روک کر غزہ میں فوجی کاروائی کا دائرہ مزید بڑھا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چند ہفتے پہلے اسرائیل اور حماس کے درمیان 60 روزہ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا جس میں حماس نے 146 اسرائیلی فوجیوں کو آزاد کیا تھا۔ مختلف ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس کے پاس اس وقت بھی تقریباً 59 اسرائیلی یرغمالی موجود ہیں جن میں سے 24 زندہ حالت میں ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دعوی کیا تھا کہ غزہ میں 21 اسرائیلی یرغمالی زندہ ہیں جس کے بعد یرغمالیوں کے اہلخانہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اپوزیشن اور رائے عامہ کے شدید دباو اور مخالفت کے باوجود صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو غزہ میں فوجی کاروائی جاری رکھنے پر مصر ہے اور حماس سے مستقل جنگ بندی کرنے سے انکاری ہے۔
 
ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ سیاست سمجھنے کے لیے اس کی شخصیت کا گہرائی میں جائزہ لینا ضروری ہے۔ وہ نیویارک کا تاجر ہے اور اب امریکہ کا 47 واں صدر بن گیا ہے۔ اس نے سالہا سال جوا خانے چلائے ہیں اور اس مافیائی صنعت میں اپنے رقیبوں کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بھی کیا ہے۔ مافیائی دنیا کا پہلا قانون یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو غیر ضروری شدت پسندی سے پرہیز کیا جائے تاکہ گروہوں کے بڑے مفادات محفوظ رہ سکیں۔ مغربی ایشیا میں غاصب صیہونی رژیم کی تسلط پسندانہ پالیسیاں ٹھیک اس اصول سے متضاد ہیں اور اس سے ٹکراتی دکھائی دیتی ہیں۔ لہذا ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ سیاست سے بھی ٹکرا رہی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ مغربی ایشیا خطے میں خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کا منصوبہ جلد از جلد تکمیل کرنے کے درپے ہے۔
 
ڈونلڈ ٹرمپ بحیرہ عرب سے لے کر بحیرہ روم تک ایک سیکورٹی اقتصادی بلاک تشکیل کرنا چاہتا ہے اور اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ مقصد اسرائیل کی یکہ تازیوں اور تسلط پسندی کے ساتھ حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ اسلامی ممالک کسی صورت میں بھی فلسطین کاز سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہیں۔ مسئلہ فلسطین خاص طور پر طوفان الاقصی آپریشن کے بعد عالمی سطح پر اور اسلامی دنیا میں انتہائی درجہ اہمیت اختیار کر چکا ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹلی کے ڈانز کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہوتے ہوئے حماس سے براہ راست مذاکرات انجام دے کر نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ وہ غلط راستے پر گامزن ہے اور اس سے پہلے کہ صورتحال بے قابو ہو جائے عقلمندی کا راستہ اختیار کرے۔ امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نئے منصوبے کے ساتھ تل ابیب گیا ہے جس کا مرکزی خیال خطے میں خودمختار فلسطینی ریاست کی تشکیل پر استوار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور حماس کے درمیان اسرائیلی فوجی امریکی حکومت نیتن یاہو کو ڈونلڈ ٹرمپ ہے اور اسے اختیار کر ہے اور اس کیا ہے کہ تل ابیب کے ساتھ گیا ہے کے بعد ہی میں

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان