اﷲ تعالیٰ نے جو احکامات نازل فرمائے ہیں، ان میں سے بعض کا تعلق یا تو انسان کے جسم سے ہے جیسے نماز اور روزہ وغیرہ، بعض کا تعلق انسان کے مال سے ہے جیسے زکوٰۃ ، قربانی اور صدقات واجبہ وغیرہ، جب کہ حج بیت اﷲ ایسا خدائی حکم ہے جس کا تعلق انسان کے جسم اور مال دونوں سے ہے۔ حج بہت عظیم الشان عبادت ہے۔ احادیث مبارکہ میں اس کے فضائل و مناقب، آداب، شرائط، مناسک، فرائض، واجبات، سنن و مستحبات، ارکان اور طریقۂ کار کا تفصیلات موجود ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ (دینِ اسلام میں) کون سا عمل زیادہ بہتر ہے ؟ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’(دل سے) اﷲ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لانا۔‘‘
پھر پوچھا گیا کہ اس کے بعد کون سا عمل؟
تو آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اﷲ کی راہ میں جہاد کرنا۔‘‘
پھر عرض کیا گیا کہ اس کے بعد کون سا عمل زیادہ بہتر ہے ؟
تو آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اس کے بعد حج مبرور۔‘‘ (صحیح بخاری، باب فضل الحج)
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اﷲ تعالیٰ (کی رضا اور خوش نُودی کو حاصل کرنے) کے لیے حج کرے اور دوران حج (احرام کی حالت میں) اپنی بیوی کے پاس نہ جائے، بے ہودہ باتیں یا لڑائی جھگڑا وغیرہ نہ کرے اور (کبیرہ) گناہوں سے بچتا رہے تو وہ حج کرنے کے بعد (گناہوں سے ایسا پاک صاف ہوجاتا ہے) جیسا کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے وقت پاک صاف تھا۔
(صحیح بخاری، باب فضل الحج المبرور)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ حج کو آنے والے اور عمرہ ادا کرنے والے اﷲ تعالی کے معزز مہمان ہیں، اگر وہ اﷲ تعالی سے دعا مانگیں تو اﷲ تعالی ان کی دعا قبول فرماتا ہے اور اگر وہ گناہوں کی مغفرت طلب کریں تو اﷲ تعالی ان کے گناہوں کو بخش دے گا۔
(سنن ابن ماجہ، باب فضل دعاء الحاج)
حضرت ابُوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا، مفہوم:
’’حج کرنے والا حاجی اپنے قبیلے کے چار سو آدمیوں کی شفاعت کرے گا۔‘‘
(مسند بزار، باب الحاج یشفع)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے دعا دیتے ہوئے فرمایا، مفہوم:
’’اﷲ تعالیٰ حج کرنے والوں کی مغفرت فرمائے اور ان کی بھی مغفرت فرمائے جن کے لیے حاجی لوگ اﷲ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا مانگتے ہیں۔‘‘
چند ایسی بنیادی باتیں جن کا خیال کرنا بہت ضروری ہے ورنہ حج کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔
1: نیّت کی درستی:
اس عظیم عبادت کی ادائی کے وقت خالص اﷲ کی رضا اور خوش نُودی کی نیّت کریں اور اس کو محض اﷲ کا خاص فضل اور احسان سمجھیں۔ خودنمائی، ریاکاری، دکھلاوا، لوگوں کی واہ واہ لُوٹنے اور خود کو حاجی صاحب کہلانے اور خود پسندی ترک کرکے دل میں صرف اﷲ کی رضا کا جذبہ پیدا کریں۔ البتہ یہاں ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ بسا اوقات عبادات کی ادائی کے وقت خود بہ خود یہ خیال دل میں پیدا ہوتا ہے کہ لوگ مجھے اچھا سمجھیں، میری عزت کریں، میرا احترام کریں، معاشرے میں مجھے قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ اگر ایسے خیالات دل میں آرہے ہوں تو عبادات کو ہرگز نہ چھوڑیں بل کہ برابر ادا کرتے رہیں۔
یہ کوئی پریشانی والی بات نہیں بل کہ نفس اور شیطان کا اﷲ تعالیٰ کی عبادات سے دُور کرنے کے لیے ایک دھوکا اور وسوسہ ہے، اسے دل میں جگہ نہ دیں۔ جوں ہی یہ خیال آنے لگے فوراً اپنی توجہ اﷲ کے فضل و احسان اور اس کی طرف سے ملنے والی بے شمار نعمتوں کی طرف کریں اور اپنے آپ پر غور کریں اور خود کو سمجھائیں کہ یہ سب کچھ مجھ پر محض اﷲ کا فضل اور احسان ہے اس ذات نے مجھ گناہ گار پر اپنا کرم فرمایا، اس میں میرا ذاتی کوئی کمال نہیں۔ ان شاء اﷲ خود نمائی، ریاکاری اور دکھلاوے وغیرہ سے جان چھوٹ جائے گی۔
2: فریضہ حج کی ادائی میں تاخیر نہ کریں:
حج فرض ہوجانے کے بعد اس کی ادائی میں تاخیر نہ کریں، آئندہ پر نہ ٹالتے رہیں۔ ہمارے ہاں معاشرے میں یہ بات پھیلی ہوئی ہے کہ پہلے اولاد کی شادیوں سے فراغت مل جائے پھر حج کریں گے، والدین اپنی اولاد کی شادی کو اپنے اوپر فرض کا درجہ دے کر حج میں تاخیر کرتے ہیں یہ غلط سوچ اور اسلامی احکامات اور تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے۔
اس حوالے سے دو باتیں پیش نظر رہیں۔ ایک تو یہ کہ زندگی کا کچھ بھروسا نہیں، اور نہ معلوم آئندہ سال زندہ بھی رہیں یا نہیں ؟ دوسرا وقت گزرنے کے ساتھ انسان میں طاقت کم ہوتی جاتی ہے، بڑھاپا اور ضعف بڑھ جاتا ہے، مناسک حج کی ادائی کے لیے قوت، ہمت اور چستی چاہیے۔ تاخیر کی صورت میں یہ کم زور پڑجاتی ہیں اور انسان میں تن درستی اور چستی کے بہ جائے سستی اور ضعف پیدا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے عبادات میں وہ لطف نہیں ملتا، جو جوانی کی عبادت میں ملتا ہے۔ مکانات کی تعمیر اور اولاد کی شادی بیاہ وغیرہ جیسے عذر کی آڑ میں فریضۂ حج میں تاخیر کرنا بہت نادانی کی بات ہے۔
3: گناہوں سے اجتناب:
تمام عبادات بالخصوص فریضۂ حج کی حقیقت پانے اور صحیح معنوں میں اس کا اجر و ثواب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان گناہوں سے خود کو بچائے، خصوصاً لڑائی جھگڑا، گالم گلوچ، عیب جوئی اور عیب گوئی، غیبت و تہمت، بہتان طرازی، چغل خوری، دھوکا دہی، چوری چکاری، سیلفیاں لینا، تصویر سازی، بے پردگی، بدنظری، ممنوعات احرام اور مفسدات حج سے خود کو بچائے۔ عموماً دیکھا جاتا ہے کہ حرم کعبہ اور مسجد نبویؐ میں بیٹھ کر بہت سے دین دار بھی غیبت جیسے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔ اس سے بچنے کا سب سے آسان حل ذکر اﷲ اور تلاوت قرآن کریم میں خود کو مشغول کرنا ہے۔
4: بازاروں میں وقت برباد نہ کریں:
حرمین شریفین بہت مقدس مقامات ہیں، وہاں کی عبادات کا ثواب عام جگہوں سے کہیں زیادہ ہے۔ انسان کی زندگی میں قسمت سے ایسے مواقع نصیب ہوتے ہیں، اس لیے ان اوقات کو ضایع ہونے سے بچائیں۔ بازاروں کی رونق بننے کے بہ جائے زیادہ وقت عبادات میں گزاریں، طواف کی کثرت کریں، بازار میں خرید و فروخت کو ضرورت کی حد تک رکھیں، کوشش کریں کہ ایک ہی بار اپنی ضروریات کی چیزیں خرید لیں، تاکہ بار بار بازار نہ جانا پڑے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حضرت ابوہریرہ گناہوں سے میں تاخیر اﷲ تعالی کی ادائی خود کو کے بعد کے لیے اور اس
پڑھیں:
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی(Attaullah Khan Esakhelvi) نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اپنی آخرت کی تیاری اور اپنی قبر سے متعلق گفتگو کی ہے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے پوڈکاسٹ میں بتایا کہ میں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے، میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا، ورنہ بعد میں خود دیکھ لیں گے، ہمارا خاندانی قبرستان ہے اور میں نے وہاں اپنے لیے ایک قبر مخصوص کروا رکھی ہے، ساتھ کچھ مزید جگہ بھی ہے، ایک میری اہلیہ کے لیے بھی ہے، اگرچہ یہ بات میں نے مذاق میں کہی تھی، اصل میں صرف اپنی قبر تیار کروائی ہے، اللّٰہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔
مزیدپڑھیں:بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے بتایا کہ فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروانے کے بعد میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اپنی آخری آرام گاہ بھی وہیں ہونی چاہیے۔
گلوکار کا کہنا ہے کہ والدہ، عزیز و اقارب اور قریبی دوستوں کی وفات نے مجھے زندگی اور موت کے بارے میں زیادہ سوچنے پر مجبور کیا اور میں صرف اتنی دعا کرتا ہوں کہ اللّٰہ مجھے پُرسکون موت عطاء فرمائے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔