بھارت کو شکست ہماری افواج کی فتح ہے، سلمان اکرم راجا
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
معروف قانونی ماہر اور پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ ’یہ ایک معرکہ تھا جو ہماری افواج نے جیتا ہے، دشمن کو ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو اس اقدام میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جو پاکستان کے مؤقف اور عسکری تیاریوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ ہم اس پر فخر کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر آج ملک بھر میں یوم تشکر منایا جارہا ہے
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں دشمن کے ہر وار کو ناکام بناتی ہیں۔ پی ٹی آئی سوشل میڈیا نے بھارتی پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دیا، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک تاریخی عمل تھا۔
مزید پڑھیں: معرکہ بنیان مرصوص کی تکمیل پر آئی ایس پی آر کی جانب سے خصوصی نغمہ جاری
ان کا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی کا مؤقف یہی ہے کہ یہ ایک معرکہ تھا جو ہماری افواج نے جیتا، ہم اپنے سپاہیوں اور اپنے دفاعی نظام کے ساتھ کھڑے ہیں، آئندہ بھی کوئی ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا تو ایک دفعہ پھر بھرپور جواب دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بھارت جنگ پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا سوشل میڈیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت جنگ پی ٹی ا ئی سلمان اکرم راجا سوشل میڈیا
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔