حکومت کا ایئر چیف مارشل کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ان کی خدمات جاری رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
حکومت پاکستان نے معرکہ حق، آپریشن بُنیان مرصوص میں ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمن کو شِکست فاش دینے پر ایئر چیف مارشل ظہر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ان کی خدمات کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔
اس میں کہا گیا کہ وزیرِ اعظم نے پوری پاکستانی قوم کو معرکہ حق کے دوران آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی اور دشمن کے عزائم خاک میں ملانے پر مبارکباد دی۔
بیان کے مطابق وفاقی کابینہ میں گفتگو کے دوران کہا گیا کہ حال ہی میں پاکستان تاریخ کے کٹھن مرحلے سے گزرا۔
وفاقی کابینہ نے کہا کہ 6 اور 7 مئی 2025 کی رات بھارت نے پاکستان پر بلا اشتعال اور بلا جواز جنگ مسلط کی، پاکستان کی سول آبادی میں معصوم شہریوں بشمول خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔
وفاقی کابینہ کا کہنا تھا کہ دشمن کی جانب سے پاکستان کی خود مختاری اور سرحدی سالمیت کو پامال کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔
کابینہ نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے مثالی جرآت اور عزم کے ساتھ پاک فوج کی قیادت کی اور مسلح افواج کی جنگی حکمتِ عملی اور کاوشوں کو بھرپور طریقے سے ہم آہنگ کیا۔
وفاقی کابینہ نے کہا کہ آرمی چیف کی بے مثال قیادت کی بدولت پاکستان کو معرکہ حق میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی۔
بیان کے مطابق ان کی شاندار عسکری قیادت، جرآت، اور بہادری، پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے اور دشمن کے مقابلے میں دلیررانہ دفاع کے اعتراف میں جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی وزیرِ اعظم کی تجویز کابینہ نے منظور کرلی۔
وزیرِ اعظم نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کرکے انہیں اس فیصلے کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔
بیان کے مطابق وفاقی حکومت نے ایئر چیف مارشل ظہر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ان کی خدمات کو جاری رکھنے کا بھی متفقہ فیصلہ کیا۔
وفاقی کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ افواج پاکستان کے افسران و جوان، غازیان، شہدا اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو آپریشن بنیان مرصوص کے دوران ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں اعلی سرکاری ایورڈز سے نوازا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق وفاقی کابینہ کابینہ نے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔