خضدار؛ دہشتگرد حملے میں بچوں کی شہادت، بھارت بزدلانہ کارروائیوں پر اتر آیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
اسلام آباد:
خضدار میں اسکول بس پر بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے حملے میں تین طالبات شہید ہوگئیں، میدان جنگ میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد بھارت گھناؤنی اور بزدلانہ کارروائیوں پر اتر آیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خضدار میں اسکول جانے والے معصوم بچوں کی بس کو نشانہ بنایا گیا۔
معرکہ حق میں عبرت ناک شکست کے بعد اس بزدلانہ اور بھیانک حملے کی ہدایات بھارت نے دیں، اس بزدلانہ اور بھیانک حملے کی منصوبہ بندی بھارت میں کی گئی جسے بلوچستان میں پراکسیوں نے منطقی انجام تک پہنچایا۔
اس حملے میں شہید ہونے والی طالبات میں چھٹی جماعت کی ثانیہ سومرو، ساتویں جماعت کی حفظہ کوثر اور دسویں جماعت کی عیشا سلیم شامل ہیں۔ حملے میں متعدد بچے بھی زخمی ہیں جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے تمام واقعات کے پیچھے بھارت کا مسخ شدہ چہرہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حملے میں
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :