ایٹمی ہتھیار تباہی کا نہیں بلکہ طاقت کا توازن قائم رکھنے کا ذریعہ ہیں، سربراہ ایم کیو ایم پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
یومِ تکبیر کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان اب اپنے اصل وارثوں کی طرف لوٹ رہا ہے، اور ہمیں فخر ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسا محسن اسی شہر کا بیٹا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں بنیادی کردار ادا کرنے پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی ہتھیار تباہی کا نہیں بلکہ خطے میں طاقت کا توازن قائم رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد سے متصل پارک میں یومِ تکبیر کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 28 مئی کا دن اس عہد کی تکمیل کا دن ہے، جو قیام پاکستان کے وقت کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بانیان پاکستان کی اولادوں نے نہ صرف آزادی حاصل کی بلکہ اسے سنوارنے اور ترقی دینے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی صرف منی پاکستان نہیں بلکہ پورے برصغیر کی نمائندگی کرتا ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 1971ء کے بعد ایک وفادار پاکستانی جو یورپ میں کامیاب زندگی گزار رہا تھا، سب کچھ چھوڑ کر وطن واپس آیا اور پاکستان کو ناقابلِ تسخیر دفاعی طاقت بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں آج تک نیوکلیئر ہتھیاروں کا دوبارہ استعمال نہ ہونا اس حقیقت کی گواہی ہے کہ ایٹمی ہتھیار طاقت کا توازن قائم رکھنے کا ذریعہ ہیں، نہ کہ تباہی کا۔ چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ پاکستان اب اپنے اصل وارثوں کی طرف لوٹ رہا ہے، اور ہمیں فخر ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسا محسن اسی شہر کا بیٹا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خالد مقبول صدیقی نے ایم کیو ایم پاکستان کے کرتے ہوئے نے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔