پاکستان کی ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان نے ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی یہ فوجی کارروائی ایران کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔
دفتر خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ ہیں، اس لیے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو فوری طور پر اس جارحیت کو روکنے کے لیے مؤثر اقدام کرنا چاہیے۔
ترجمان نے کہا کہ عالمی قوانین کا تحفظ اور جارح ملک کو جوابدہ ٹھہرانا اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان، ایران کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔