اپوزیشن کا ملک محمد احمد خان پر مائیک توڑنے کا الزام، اسپیکر کا اظہارِ برہمی
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے ہونے والے اجلاس کے دوران اپوزیشن نے اسپیکر اسمبلی پر مائیک توڑنے کا الزام عائد کر دیا۔
اسپیکر ملک محمد احمد خان کی زیرِ صدارت پنجاب اسمبلی کا بجٹ پر بحث کے لیے اجلاس ہوا۔ اجلاس میں اپوزیشن نے حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی، دونوں بینچز پر ماحول کشیدہ نظر آیا۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن نے اسپیکر پنجاب اسمبلی پر مائیک توڑنے کا الزام عائد کردیا جس پر ملک محمد احمد خان برہم ہوگئے۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ معاملے کی انکوائری کرواؤں گا، اگر اپوزیشن کی ہلڑبازی سے مائیک ٹوٹے تو وہ ذمہ دار ہوں گے۔
اس پر اپوزیشن لیڈر ملک احمد بچھر نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج ہمارا حق ہے، آپ احتجاج سے منع نہیں کر سکتے، اعجاز شفیع کے معاملے پر بار بار کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائیں لیکن آپ نے نہیں نکلوائی۔
وزیرِ پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا اپوزیشن ہم نے بھی کی ہے لیکن ہم نے کبھی ایسا ماحول نہیں بنایا۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں جنوبی پنجاب کو نظرانداز کیا گیا ہے، پی پی پی رہنما علی حیدر گیلانی نے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ پر تحقیقات کےلیے کمیٹی بنائی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کر اگر بجٹ میں جنوبی پنجاب سے ناانصافی کریں گے تو پھر الگ صوبے کے لیے آواز اٹھے گی۔
بعد ازاں اجلاس ہفتہ دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ملک محمد احمد خان کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔