بھارتی آبی جارحیت؛ گنگا معاہدہ معطل کرکے بنگلا دیش کا پانی روکنے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
پہلگام حملے کو جواز بنا کر جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے پورے خطے کے امن کو خطرات سے دوچار کر دیا، سندھ طاس معاہدہ معطلی کے بعد اب بھارت نے بنگلا دیش سے گنگا معاہدے پر نظرثانی کا فیصلہ کر لیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ’’1996 کا بھارت بنگلا دیش گنگا معاہدہ 30 سال مکمل ہونے پر 2026 میں ختم ہونے والا ہے۔ گنگا معاہدے کی شق نمبر 12 کے مطابق اس معاہدے کی تجدید دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے کی جائے گی۔‘‘
گنگا معاہدے کے مطابق خشک موسم خصوصاً فرکا بیراج کے اطراف میں پانی کی تقسیم کو منصفانہ بنانا تھا، بھارت نے بنگلا دیش کو آگاہ کیا ہے کہ ترقیاتی ضروریات کے لیے زیادہ پانی درکار ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق ’’پہلگام حملے سے پہلے بھارت گنگا معاہدہ 30 سال بڑھانا چاہتا تھا مگر حالات یکسر بدل گئے۔‘‘
بھارت کے یکطرفہ فیصلے پر بنگلا دیش نےتشویش کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ جنگی جنون میں مبتلا بھارت کی آبی جارحیت جنوبی ایشیا میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔