data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسٹیبلشمنٹ ریاست کا ایک ادارہ ہے مگر پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ بجائے خود ریاست بن کر کھڑی ہوگئی ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ تحریک پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار نہیں تھا اس لیے کہ تحریک پاکستان کے زمانے میں کوئی اسٹیبشلمنٹ موجود ہی نہیں تھی مگر قیام پاکستان کے بعد جرنیل ملک کے مالک بن کر کھڑے ہوگئے۔ اس سلسلے میں جرنیلوں نے امریکا کے ساتھ سازباز کی۔ جنرل ایوب نے اگرچہ مارشل لا 1958ء میں لگایا مگر وہ 1954ء سے امریکیوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ یہ بات امریکا کی خفیہ دستاویزات کے سامنے آنے سے پوری طرح آشکار ہوچکی ہے۔ ان دستاویزات کے مطابق جنرل ایوب امریکیوں کو بتارہے تھے کہ پاکستان کے سیاسی رہنما بڑے نااہل ہیں اور وہ سیاست دانوں کو ہرگز بھی ملک تباہ نہیں کرنے دیں گے۔ جنرل ایوب کے اس طرزِ عمل کی سب سے ہولناک بات یہ ہے کہ وہ مارشل لا ضرور لگاتے اور سیاست دانوں کو ملک تباہ کرنے سے ضرور روکتے مگر انہیں اس سلسلے میں امریکیوں کے سامنے اپنے پوتڑے دھونے کی ضرورت نہیں تھی۔ پاکستان کی سیاست ہمارے گھر کا اندرونی معاملہ تھی۔ ہمیں گھر کے مسئلے کا حل گھر کے اندر رہ کر خود ہی تلاش کرنا تھا مگر جنرل ایوب کو معلوم تھا کہ انہوں نے امریکا کی گود میں بیٹھے بغیر مارشل لا لگایا تو امریکا ان کے مارشل لا کو قبول نہیں کرے گا۔ یہاں کہنے کی اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکا کی مداخلت کی راہ ہموار کرنے والا کوئی سیاست دان نہیں تھا۔ ایسا ہوتا تو جرنیل ساری زندگی سیاست دانوں پر الزام لگاتے کہ انہوں نے امریکا کے اونٹ کو اپنے خیمے میں گھسانے کی ہولناک اور شرمناک غلطی کی ہے۔
بدقسمتی سے جنرل ایوب کا مارشل لا ملک کا آخری مارشل لا ثابت نہ ہوا۔ جنرل ایوب کے مارشل لا نے اسٹیبلشمنٹ کو اقتدار کی چاٹ لگادی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے اسٹیبلشمنٹ اقتدار کے کھیل پر پوری طرح چھائی ہوئی ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاست دان اور سیاسی جماعتیں ملک کے سیاسی حالات کے مطابق نمودار ہوتے ہیں۔ بھارت ہمارے ساتھ آزاد ہوا تھا مگر اس کے تمام سیاسی رہنما اور سیاسی جماعتیں اس کے سیاسی حالات کا حاصل ہیں۔ پاکستان کا معاملہ اس کے برعکس یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے خود کو سیاست دان اور سیاسی جماعتیں پیدا کرنے والی فیکٹری بنا لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو ہماری سیاسی تاریخ کا اہم کردار ہیں مگر بھٹو کی سیاست کا
آغاز جنرل ایوب کے سائے میں ہوا۔ جنرل ایوب کی کابینہ کا حصہ تھے اور وہ جنرل ایوب کو صدر یا جنرل نہیں ’’ڈیڈی‘‘ کہا کرتے تھے۔ جنرل ضیا الحق اور جنرل جیلانی نے میاں نواز شریف کو سیاست دان بنایا۔ جنرل ضیا الحق سے میاں صاحب کا رشتہ یہ تھا کہ وہ جنرل ضیا الحق کو اپنا روحانی والد کہا کرتے تھے۔ الطاف حسین کی شخصیت اور سیاست پر بھی جنرل ضیا الحق کا گہرا سایہ ہے۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے ذریعے جنرل ضیا الحق دیہی سندھ کے دائرے میں پیپلز پارٹی پر ایک خوف مسلط کرنا چاہتے تھے۔ کراچی میں جماعت اسلامی بڑی مزاحمتی طاقت تھی اور جنرل ضیا الحق نے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے ذریعے کراچی میں جماعت اسلامی کا زور توڑنے میں کامیابی حاصل کی۔ عمران خان کو فوج سیاست میں نہیں لائی تھی مگر یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی کے بغیر وہ ملک کے وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ یہ اسٹیبلشمنٹ ہی تھی جس نے انہیں الیکٹ ایبلز کی فوج کا مالک بنایا۔ یہ اسٹیبلشمنٹ ہی تھی جس نے ان کی تین سال کی ناکارکردگی پر پردہ ڈالا لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے جتنے بھی سیاست دان پیدا کیے وہ بالآخر اس کے ہاتھ سے نکل گئے اور ان سب نے کسی نہ کسی صورت میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ کردار ادا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے معاہدہ تاشقند کے بعد جنرل ایوب کے خلاف محاذ کھولا۔ انہوں نے قوم کو بتایا کہ جنرل ایوب نے بھارت کے ساتھ تاشقند میں معاہدے پر دستخط کرکے قومی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کے پاس معاہدہ تاشقند کے راز ہیں۔ بھٹو صاحب یہ راز تو کبھی آشکار نہ کرسکے۔ البتہ وہ اسٹیبلشمنٹ مخالف
سیاست دان بن کر ضرور ابھرے۔ میاں نواز شریف کی زندگی میں بھی وہ دن آیا جب انہوں نے اپنی حکومت کی برطرفی کے بعد اعلان کیا کہ اب وہ ’’کسی سے‘‘ ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔ لیکن میاں نواز شریف ذوالفقار علی بھٹو سے کہیں زیادہ خوش قسمت تھے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھٹو کی محاذ آرائی انہیں تختہ دار تک لے گئی۔ البتہ میاں نواز شریف پہلی بار جنرل پرویز کے ساتھ خفیہ معاہدہ کرکے ملک سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ دوسری بار عمران خان کے دور میں بھی اسٹیبلشمنٹ ہی نے انہیں بیمار کراکے ملک سے فرار کردیا۔ اس کی اطلاع کسی اور کو کیا عمران خان تک کو نہ ہوسکی۔ عمران خان بھی آخری وقت تک یہی سمجھتے رہے کہ میاں نواز شریف سخت بیمار ہیں۔ ان کے پلیٹ لیٹس واقعتا ہولناک حد تک گر رہے ہیں۔ خود عمران خان کو بھی اسٹیبلشمنٹ کا سایہ راس نہ آیا۔ انہیں بھی اسٹیبلشمنٹ نے امریکا کے ساتھ ساز باز کرکے اقتدار سے باہر کیا اور اب عمران خان بھی کہہ رہے ہیں کہ ان کے سینے میں بڑے راز ہیں۔ ان کے بقول اگر انہیں مروا دیا گیا تو انہوں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کرادی ہے جس میں ان لوگوں کے نام لیے گئے ہیں جو ان کو اقتدار سے باہر کرنے اور بالآخر انہیں مروانے کے ذمے دار ہوں گے۔ یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ الطاف حسین نے 20 سال تک کراچی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیے رکھا۔ وہ ہر سال اربوں روپے کا بھتا شہر سے وصول کرتے تھے۔ انہوں نے کراچی کو بوری بند لاشوں کا کلچر دیا۔ انہوں نے ایک سال میں 54 پرتشدد ہڑتالیں کرائیں۔ لیکن ان سے کوئی بات بھی اسٹیبلشمنٹ کے لیے پریشان کن نہ تھی۔ اسٹیبلشمنٹ کے لیے الطاف حسین اس وقت ناقابل برداشت ہوئے جب انہوں نے جرنیلوں کو گالیاں دینی شروع کیں۔ الطاف حسین جرنیلوں کو گالیاں نہ دیتے تو اسٹیبلشمنٹ کبھی ’’مائنس ون‘‘ کے فارمولے پر عمل نہ کرتی۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ جن سیاست دانوں کو پیدا کرتی ہے انہیں اقتدار میں لاتی ہے پھر انہی سیاست دانوں کو اپنا حریف کیوں بنالیتی ہے؟ اس سوال کے کئی
جواب ہیں، ایک جواب یہ ہے کہ جب کوئی سیاست دان حقیقی معنوں میں ’’عوامی بنیاد‘‘ پیدا کرلیتا ہے تو اسٹیبلشمنٹ کے لیے خطرناک ہوجاتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دانوں کے تعلقات کی خرابی کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ سیاست دان اسٹیبلشمنٹ سے الگ ہو کر سوچنے لگتے ہیں۔ وہ اپنی رائے پر اصرار کرنے لگتے ہیں۔ محمد خان جونیجو کو جنرل ضیا الحق ہی نے وزیراعظم بنایا تھا مگر جونیجو نے جینوا سمجھوتا کرتے ہوئے جنرل ضیا الحق کی پالیسی کو یکسر نظر انداز کردیا۔ چناں چہ جنرل ضیا الحق نے انہیں برطرف کردیا۔ ایک نفسیاتی مسئلہ یہ بھی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے پیدا کردہ سیاست دانوں کی عزت نفس کو مسلسل مجروح کرتی رہتی ہے۔ چناں چہ ایک وقت آتا ہے کہ سیاست دانوں کی قوت برداشت جواب دے جاتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سیاست دانوں کی عزت نفس کو کس حد تک مجروح کرتی ہے اس کی ایک کلاسیکل مثال میاں نواز شریف ہیں۔ میاں نواز شریف ایک بار ایک پارٹی میں جنرل جیلانی کے ساتھ موجود تھے۔ جنرل جیلانی کو اچانک نہ جانے کیا سوجھی انہوں نے ایک بیرے کے سر سے مخصوص پگڑی اتار کر اسے میاں نواز شریف کے سر پر رکھ دیا۔ میاں صاحب چاہ کر بھی ٹوپی کو اپنے سر سے نہ اٹھا سکے۔
جرنیلوں نے صرف سیاست دان ہی ’’ایجاد‘‘ نہیں کیے۔ انہوں نے سیاسی جماعتیں بھی تخلیق کی ہیں۔ جنرل ایوب ویسے سیاسی جماعتوں کے سخت خلاف تھے اور انہوں نے سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی ہوئی تھی مگر جب ضرورت پڑی تو انہوں نے کنوینشن لیگ کے نام سے ایک سیاسی جماعت کھڑی کردی۔ جنرل ضیا الحق کو سیاسی جماعتوں سے نفرت تھی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اسلام میں سیاسی جماعتوں کا کوئی تصور ہی موجود نہیں۔ ان کے بقول سیاسی جماعتیں قوم کو متحد کرنے کے بجائے منتشر کرتی ہیں۔ مگر پھر وہ وقت بھی آیا کہ جنرل ضیا الحق نے جونیجو لیگ کی صورت میں ایک سیاسی جماعت کھڑی کردی۔ جنرل پرویز مشرف بھی فوجی آمر تھے اور انہیں بھی سیاسی جماعتیں زہر لگتی تھیں مگر انہیں ضرورت پڑی تو انہوں نے (ق) لیگ گھڑ لی اور ایم کیو ایم کی کھل کر سرپرستی کی۔
بدقسمتی سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی اور اخلاقی بے وفائیوں کی بھی ایک تاریخ رقم کی ہے۔ یہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ہی تھی جس نے 1970ء کے بحرانی دور میں مشرقی پاکستان کے اندر جماعت اسلامی سے البدر اور الشمس بنانے کے لیے کہا۔ جماعت اسلامی نے ملک و قوم کے دفاع کے لیے اپنے نوجوان پیش کردیے۔ البدر اور الشمس کے نوجوانوں نے قومی دفاع کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن جب مشرقی پاکستان کے حالات جرنیلوں کے ہاتھ سے نکل گئے تو ہمارے فوجی خود تو ہتھیار ڈال کر جنگی قیدی بن گئے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ان کی جانیں محفوظ ہوگئیں لیکن انہوں نے البدر اور الشمس کے ہزاروں نوجوانوں کو مکتی باہنی کے غنڈوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ مکتی باہنی کے غنڈوں نے چن چن کر البدر اور الشمس کے نوجوانوں کو شہید کیا۔ یہ صورت حال اتنی المناک تھی کہ ایک بار قاضی حسین احمد نے اپنے ایک بیان میں فرمایا تھا کہ فوج نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کرلیا تھا تو وہ ہمیں چند روز پہلے بتا دیتی تاکہ ہم اپنے نوجوانوں کو متاثرہ علاقوں سے نکال لیتے۔ مشرقی پاکستان کے بحران میں بہاریوں نے بھی فوج کا ساتھ دیا مگر اسٹیبلشمنٹ ان مظلوم محب وطن بہاریوں کو بھی بھول گئی اور یہ بہاری 50 سال سے بنگلادیش کے پناہ گزین کیمپوں میں جہنم جیسی زندگی بسر کررہے ہیں۔ حسینہ واجد کی حکومت جماعت اسلامی کے رہنمائوں کو فوج کا ساتھ دینے کے الزام میں پھانسیوں پر لٹکارہی ہے مگر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے آج تک اس سلسلے میں بھی آواز نہیں اٹھائی۔ ایک وقت تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلح جدوجہد موجود نہ تھی۔ جنرل ضیا الحق نے کشمیر کے رہنمائوں کو پیغام دیا کہ اگر آپ اپنی جدوجہد کو مسلح جدوجہد میں تبدیل کرکے اسے کامیابی کی ایک حد تک لے آئیں تو پاکستان مقبوضہ کشمیر میں مداخلت کرے گا۔ کشمیریوں نے ایسا ہی کیا اور جب انہوں نے پاکستان سے مدد مانگی تو کہہ دیا گیا کہ کشمیر کے لیے پاکستان کو دائو پر نہیں لگایا جاسکتا۔ یہ بات بھی تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ طالبان کو اسٹیبلشمنٹ نے خلق کیا تھا۔ ہم نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے یہ کہہ کر طالبان کو تسلیم کروایا کہ طالبان افغانی نہیں پاکستان کے بچے ہیں اور پھر ہماری اسٹیبلشمنٹ نے نائن الیون کے بعد پاکستان کے بچوں کو پکڑ پکڑ کر امریکاکے حوالے کیا۔ یہاں تک کہ جنرل پرویز کو طالبان کے سفیر ملا ضعیف پر بھی رحم نہ آیا اور انہیں بھی پکڑ کر امریکا کے حوالے کردیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہے کہ اسٹیبلشمنٹ جنرل ضیا الحق نے البدر اور الشمس بھی اسٹیبلشمنٹ سیاست دانوں کو میاں نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی جماعتوں اسٹیبلشمنٹ نے اسٹیبلشمنٹ ہی سیاسی جماعتیں جماعت اسلامی جنرل ایوب کے سیاسی جماعت الطاف حسین پاکستان کے پاکستان کی سیاست دان امریکا کے نے امریکا سلسلے میں کرتے تھے انہوں نے مارشل لا یہ ہے کہ کے ساتھ اور ان کے بعد ایم کی تھا کہ نے ایک کے لیے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔