خیبر پختونخوا حکومت میں نئے وزرا شامل کیے جارہے ہیں، بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
خیبر پختونخوا حکومت میں نئے وزرا شامل کیے جارہے ہیں، بیرسٹر سیف WhatsAppFacebookTwitter 0 26 June, 2025 سب نیوز
پشاور (سب نیوز)مشیراطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت میں جلد نئے وزرا شامل کیے جا رہے ہیں ۔بانی پی ٹی آئی کا ان پر مکمل اعتماد ہے اسی لیے ان کی ملاقاتوں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ ایک آئینی تقاضا تھا جسے ہم نے کامیابی سے پاس کیا۔
بیرسٹر محمد علی سیف نے ایبٹ آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے دوران بجٹ سے متعلق جو تجاویز پیش کیں وہ تمام تجاویز بجٹ میں شامل کی گئی ہیں۔انہوں نے پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاکر وزیر اعلی کو 10 کھرب روپے کے اخراجات کا حساب دینا ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجو سرکاری و نجی تعلیمی ادارہ عسکریت کی تعلیم و تربیت دے گا اس کے خلاف کاروائی ہوگی، اسلامی نظریاتی کونسل جو سرکاری و نجی تعلیمی ادارہ عسکریت کی تعلیم و تربیت دے گا اس کے خلاف کاروائی ہوگی، اسلامی نظریاتی کونسل بانی پی ٹی آئی کی فیملی تسلی رکھیں، انہیں کوئی مائنس نہیں کرسکتا، بیرسٹر گوہر اسلام آباد میں گاڑی پر کھمبا گرنے سے 2 افراد جاں بحق، 2 زخمی سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصر کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ میرے لیڈربانی پی ٹی آئی ہیں،صرف انہی کے سامنے ہی جوابدہ ہوں، علی امین گنڈا پور بانی پی ٹی آئی کو مائنس نہیں کیا جاسکتا، جاوید ہاشمی کی عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل آمدCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔