پاک فوج کی بروقت کارروائی، پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 30 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل میں پاک افغان سرحد کے قریب بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج کے ایک بڑے گروہ کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی،جس میں 30 دہشت گرد مارے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائی یکم اور 2 جولائی کی درمیانی شب اور پھر 2 اور 3 جولائی کی درمیانی شب عمل میں آئی، جب سیکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کی مشکوک نقل و حرکت بروقت محسوس کی۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروہ بھارت کی سرپرستی میں پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے سرگرم تھا۔ کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا، جس سے ممکنہ بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاک فوج کے جوانوں نے غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیت، چوکسی اور ہمہ وقت تیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مادرِ وطن کے دفاع کا فریضہ احسن طریقے سے انجام دیا۔
بیان میں امارتِ اسلامیہ افغانستان کو بھی یاد دہانی کرائی گئی کہ وہ اپنی سرزمین کوغیر ملکی ایجنٹوں کے ہاتھوں پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ہر قیمت پر سرحدوں کے تحفظ اور بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے مکمل صفایا کے لیے پرعزم ہیں اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ہر دم تیار ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے شمالی وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے 30 دہشت گردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ مادرِ وطن کے دفاع اور دہشت گردی کے مکمل قلع قمع تک فورسز کی کارروائیاں اسی جذبے سے جاری رہیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں نہایت حوصلہ افزا ہیں، ملک دشمن عناصر کے خاتمے اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے قوم کا عزم غیر متزلزل ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی دہشت گردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ فتنۃ الہندوستان کے 30 دہشت گردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچا کر ہمارے بہادر جوانوں نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا، سیکیورٹی فورسز نے جس جرات اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ فخر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز آئی ایس پی آر کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی