بھارت کو بڑا دفاعی جھٹکا، برازیل نے’ آکاش‘ میزائل سکیم مسترد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
نئی دہلی ( نیوز ڈیسک) بھارت کو بین الاقوامی سطح پر ایک اور دفاعی دھچکا اُس وقت لگا جب برازیل نے بھارت سے اس کے تیار کردہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے آکاش میزائل سسٹم کی خریداری کے لیے جاری مذاکرات اچانک روک دیے۔ بھارتی اخبارکی رپورٹ کے مطابق برازیل نے مذاکرات معطل کرنے کے بعد یورپی میزائل سسٹم کو ترجیح دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق برازیل کی جانب سے فیصلہ میزائل کی کارکردگی اور تکنیکی خصوصیات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ بھارتی آکاش میزائل کی رینج 25 سے 30 کلومیٹر کے درمیان ہے، جبکہ یورپی میزائل سسٹم کی مار 45 کلومیٹر تک ہے، جو برازیل کی دفاعی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کرتا ہے۔
یہ پیشرفت بھارت کے لیے نہ صرف معاشی نقصان کا باعث بن سکتی ہے بلکہ دفاعی برآمدات کے شعبے میں اس کی ساکھ کو بھی متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بھارت اپنی دفاعی مصنوعات کو عالمی سطح پر فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ بھارت کی اس امید پر بھی پانی پھیر سکتا ہے کہ وہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو سستے اور مؤثر دفاعی حل فراہم کر کے عالمی اسلحہ مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھا سکے۔ بھارت کی دفاعی صنعت کو درپیش تکنیکی چیلنجز اور بین الاقوامی معیار پر پورا نہ اترنے والے نظام اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں:کرپٹ عناصر کو نظام سے باہر کیا تو صرف ایک شعبے میں ریونیو 50 ارب ہوگیا، وزیراعظم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
آسٹریلیا نے امریکا اور برطانیہ کے ساتھ ہونے والے آکس دفاعی معاہدے کے تحت جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب امریکی ڈالر (4.6 ارب آسٹریلوی ڈالر) مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا آسٹریلیا کو جوہری آبدوز کے بجائے استعمال شدہ ورجینیا آبدوزیں دے گا
آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے جمعہ کو بتایا کہ یہ رقم جنوبی آسٹریلیا کے شہر اوسبورن میں قائم شپ یارڈ پر خرچ کی جائے گی تاکہ ملک کی مستقبل کی جوہری آبدوزوں کی تیاری، دیکھ بھال اور آپریشن کے لیے مقامی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آکس معاہدہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور اس پر عملی طور پر کام جاری ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق یہ سرمایہ کاری آسٹریلیا کو اپنی مستقبل کی آبدوزوں کی تیاری، آپریشن، مرمت اور دیکھ بھال کے لیے خودمختار دفاعی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
آکس معاہدہ کیا ہے؟آکس معاہدہ 2021 میں آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد بحرالکاہل کے خطے میں دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
مزید پڑھیے: سری لنکا میں تاریخی ڈیجیٹل ڈکیتی، وزارت خزانہ آسٹریلیا کو لوٹانے والی رقم سے محروم
اس معاہدے کے تحت امریکا آسٹریلیا کو تین جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں فراہم کرے گا جبکہ بعد ازاں آسٹریلیا اور برطانیہ مل کر سنہ 2040 کی دہائی میں نئی نسل کی جوہری آبدوزیں تیار کریں گے۔
منصوبے پر خدشات بھی برقراراگرچہ آسٹریلیا اس منصوبے کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے تاہم اس پر مسلسل سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں آبدوزوں کی سست رفتار پیداوار کے باعث خدشہ ہے کہ آسٹریلیا کو مطلوبہ وقت پر یہ آبدوزیں دستیاب نہیں ہو سکیں گی۔
اخراجات میں مزید اضافہآکس معاہدہ آسٹریلیا کی تاریخ کا سب سے مہنگا دفاعی منصوبہ تصور کیا جا رہا ہے جس پر آئندہ 30 برسوں میں تقریباً 250 ارب امریکی ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔
ابتدائی منصوبے کے مطابق آسٹریلیا کو امریکا سے 2 استعمال شدہ اور ایک نئی جوہری آبدوز ملنی تھی تاہم مئی 2026 میں اس منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ تینوں آبدوزیں امریکی بحریہ میں پہلے سے زیر استعمال جہازوں میں سے فراہم کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: پاکستانی طلبا آسٹریلیا کی اسکالرشپ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیا انتظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ کم لاگت اور عملی ثابت ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا کا جوہری آبدوزوں کا منصوبہ آکس معاہدہ آسٹریلیا امریکا برطانیہ