سیلاب کا خدشہ، تربیلا ڈیم میں پانی کا ریلہ داخل ہونے کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
پشاور:
تربیلا ڈیم میں سیلاب کے خدشے کے پیش نظر انتظامیہ نے ڈیم کے پانی کا ریلہ داخل ہونے کا ہائی الرٹ جاری کر دیا۔
تربیلا ڈیم انتظامیہ کے مطابق تربیلا ڈیم میں بڑے ریلے کے داخلے کی صورت میں پانی کا اخراج 4 لاکھ کیوسک کر دیا جائے گا۔
تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1530 فٹ ہے جبکہ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 1550 فٹ ہے۔
ڈیم انتظامیہ کے مطابق ڈیم میں اس وقت پانی کی آمد 3 لاکھ 33 ہزار کیوسک ہے جبکہ اخراج 3 لاکھ 32 ہزار 600 کیوسک ہے۔
تربیلا ڈیم کے 17 بجلی کے پیداواری یونٹس سے 3500 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان تربیلا ڈیم میں
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔