گلگت بلتستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں: 9 افراد جاں بحق، درجنوں لاپتا
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ شدید بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب نے تباہی مچائی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 9 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 2 خواتین اور اتنے ہی بچے بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بابوسر سیلاب: 15 افراد تاحال لاپتا، گلگت بلتستان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت
صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اب بھی 10 سے 12 افراد لاپتا بھی ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
ترجمان کے مطابق سیلابی ریلوں سے 500 سے زائد گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ 12 کلومیٹر سے زائد سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 27 پل اور 22 گاڑیاں بھی سیلاب کی نذر ہوئیں۔
مزید پڑھیے: گلگت بلتستان، شاہراہ تھک بابوسر پر سیلابی ریلے کی تباہ کاریاں، 3 سیاح جاں بحق، 15 سے زائد لاپتا
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب سے بے شمار دکانیں اور مویشی خانے بھی تباہ ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں فٹ قیمتی عمارتی لکڑی ریلوں کے ساتھ بہہ گئی ہے۔
سیلاب سے سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان ضلع دیامر میں ہوا، جہاں متعدد علاقوں میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ 300 سے زائد پھنسے ہوئے مسافروں اور سیاحوں کو کامیابی سے ریسکیو کر لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز گلگت بلتستان کو کس طرح نقصان پہنچا رہے ہیں؟
ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں پاک فوج اور جی بی اسکاؤٹس کے جوانوں نے بھرپور حصہ لیا۔ ترجمان کے مطابق سرچ آپریشن تاحال جاری ہے تاہم پانی کے بہاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سڑکوں کی بحالی اور مواصلاتی نظام کی مرمت میں بھی پانی کی شدت رکاوٹ بن رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گلگت بلتستان گلگت بلتستان بارشیں گلگت بلتستان سیلاب گلگت بلتستان ہلاکتیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان گلگت بلتستان بارشیں گلگت بلتستان سیلاب گلگت بلتستان
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔