سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی روک تھام کیلیے قرارداد قومی اسمبلی سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
قومی اسمبلی میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی۔
قرارداد کے متن کے مطابق ایوان سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے۔
وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد سوشل میڈیا کے درست استعمال کے لیے قوانین بنائے۔ ڈیجیٹل حقوق، قواعد اور اخلاقیات کی آگاہی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کی جانب سے پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔
شہریار آفریدی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ شہریت بل ہے کیا، ایوان کو بتایا جائے۔
وزیر مملکت داخلہ نے بتایا کہ یہ بل سینیٹ اور قائمہ کمیٹی کے بعد منظور ہوا، بہت ممالک میں دوسری شہریت کے لیے اپنی شہریت ترک کرنا پڑتی تھی۔
طلال چوہدری نے کہا کہ جرمنی سمیت کئی ممالک کے ساتھ ہمارا دوہری شہریت کا معاہدہ ہوگیا ہے، اب اوورسیز پاکستانیوں کو دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنے کے لیے پاکستانی شہریت ترک نہیں کرنا پڑے گی۔
موٹر وہیکل انڈسٹری ڈویلپمنٹ بل 2025 بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جسے کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کیا جسے منظور کر لیا گیا۔
آرڈیننس
اس کے علاوہ، طلال چوہدری نے وفاقی ترقیاتی ادارہ ترمیمی آرڈیننس 2025 جبکہ رانا تنویر حسین نے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی آرڈیننس 2025 پیش کیا۔
پیپلز پارٹی کے رکن سید نوید قمر نے کہا کہ ابھی ایک ہمارا سیشن ختم ہوا، دھڑا دھڑا آرڈیننس لاتے رہیں گے تو کیا آپ پارلیمنٹ کی رٹ کو انڈر مائن نہیں کر رہے؟
رانا تنویر حسین نے کہا کہ آرڈیننس آئین کا حصہ ہیں، کوئی آرڈیننس ضرورت کے بغیر کبھی جاری نہیں ہوتا۔
اسمبلی اجلاس کے دوران، تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن سے متعلق سوال پر پارلیمانی سیکرٹری نے ڈیپارٹمنٹ سے بریفنگ نہ دیے جانے کا انکشاف کر دیا۔
پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ میں بالکل تیار نہیں ہوں، مجھے ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے بریفنگ نہیں دی گئی، میں سخت پریشان ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی میں سوشل میڈیا کے طلال چوہدری نے کہا کہ پیش کیا کے لیے
پڑھیں:
مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اسلام آباد نے مالی سال 26-2025 کے اختتام کے سلسلے میں ادائیگیوں، بلوں اور کلیمز کی وصولی کے لیے اہم ڈیڈ لائنز مقرر کردی ہیں۔
اے جی پی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (ڈی ڈی اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ حالیہ خریداریوں اور حاصل کی گئی خدمات کے تمام کلیمز 12 جون 2026 تک لازمی طور پر جمع کرائے جائیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 12 جون 2026 تک جاری کیے گئے ٹوکنز کے تحت تمام غیر منظور شدہ بلوں اور دعوؤں کو دوبارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح اے جی پی آر اسلام آباد اور اس کے ماتحت دفاتر کے زیر انتظام اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے لیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون 2026 ہوگی۔
اے جی پی آر نے واضح کیا ہے کہ 12 جون 2026 کے بعد اعزازیہ (ہونوریرئم) سے متعلق کوئی کلیم وصول نہیں کیا جائے گا۔
مزید برآں آف سائیکل ادائیگیوں کے حوالے سے کمپیوٹرائزڈ تبدیل شدہ اسٹیٹمنٹس صرف 11 جون 2026 تک وصول کی جائیں گی، جبکہ ان پر کارروائی عارضی طور پر 16 جون 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں تمام ڈی ڈی اوز اور متعلقہ دفاتر کو تاکید کی گئی ہے کہ ادائیگیوں اور مالی معاملات میں کسی قسم کی تاخیر سے بچنے کے لیے تمام کیسز مقررہ مدت کے اندر جمع کرائے جائیں۔
اے جی پی آر نے یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہوں کے چیکس مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد (اسٹیل) تصور ہوں گے اور 30 جون 2026 کے بعد ان کے متبادل چیکس جاری نہیں کیے جائیں گے۔
ادارے نے تمام متعلقہ سرکاری دفاتر اور مالیاتی حکام پر زور دیا ہے کہ بلوں، ادائیگیوں اور کلیمز سے متعلق تمام مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مالی سال 26-2025 کے حسابات بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آخری تاریخ مقرر کلیمز مالی سال کا اختتام وی نیوز