UrduPoint:
2026-06-02@22:51:29 GMT

ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی صوبہ بہار کے رہائشی؟ سرٹیفکیٹ بھی جاری

اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT

ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی صوبہ بہار کے رہائشی؟ سرٹیفکیٹ بھی جاری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 07 اگست 2025ء) بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، ووٹرز لسٹ کی متنازع خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) میں اندراج کے لیے ایک شخص نے 29 جولائی کو سابق امریکی صدر کا روپ دھار کر آن لائن درخواست دی۔ درخواست میں اس نے والدین کے نام فریڈرک کرسٹ ٹرمپ اور میری این میکلیوڈ ظاہر کیے، جو کہ واقعی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے والدین کے نام ہیں۔

اس نے ٹرمپ کی جائے رہائش بہار کے ضلع سمستی پور کے گاؤں حسن پور لکھا اور درخواست پر ٹرمپ کی تصویر بھی چسپاں کی۔

بہار کے ضلع سمستی پور کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ڈی ایم) برجیش کمار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر رہائشی سرٹیفکیٹ بنانے کی کوشش کی گئی۔

(جاری ہے)

برجیش کمار نے کہا کہ یہ سرٹیفکیٹ ڈیجیٹل چھیڑ چھاڑ کے ذریعے بنانے کی کوشش کی گئی اور قصور واروں کے خلاف ضروری کارروائی جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ ریونیو اہلکار نے 4 اگست کو اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ جعلی درخواستوں کا سلسلہ

یہ معاملہ بہار میں بڑھتے ہوئے ایک ایسے رجحان کا حصہ ہے جس میں حالیہ ہفتوں میں متعدد جعلی درخواستیں سامنے آئی ہیں، جن میں ’ڈاگ بابو‘، ’ڈوگیش بابو‘، ’نتیش کماری‘، اور ’سونالیکا ٹریکٹر‘ جیسے نام شامل ہیں۔

بھارتی صحافی محمد سمیع احمد نے پٹنہ سے فون پر ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ووٹرز لسٹ میں نام شامل کرانے کے لیے جن گیارہ طرح کے سرکاری دستاویزات کی بات کہی ہے، ان میں سے ایک ڈومیسائل (رہائشی) سرٹیفیکیٹ بھی ہے اور اس کو بنوانے میں لوگوں کو کافی پریشانی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا بعض افراد اس میں گڑبڑی اور دھاندلی کو اجاگر کرنے کے لیے جعلی سرٹیفیکٹ بنوا کر حکومت اور متعلقہ اداروں کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔

بھارت میں پاسپورٹ کو شہریت کا ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ سمیع احمد کہتے ہیں کہ بہار میں بہت کم لوگوں کے پاس پاسپورٹ ہیں۔ اب صرف ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ لوگ ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ دیں لیکن اسے بنوانے کے لیے کافی پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں۔

ٹرمپ کے ڈومیسائل سرٹیفیکٹ کے تنازع کے حوالے سے ان کا کہنا تھا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ اے آئی یا فوٹوشاپ کے ذریعہ ایسا کیا گیا ہے ، بلکہ لوگوں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ڈومیسائل سرٹیفیکٹ حاصل کرنا بہار میں ایک مذاق بن چکا ہے۔

ایسے کئی اور معاملے سامنے آچکے ہیں

ٹرمپ کے نام پر ڈومیسائل سرٹیفیکٹ کا یہ کوئی تنہا واقعہ نہیں ہے۔ جون میں، پٹنہ میں ’ڈاگ بابو‘ نامی کتے کے لیے رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔ نوادہ میں ایک اور کتے کے لیے 'ڈوگیش بابو‘ کے نام سے سرٹیفکیٹ کی درخواست دی گئی، جس میں کتے کی تصویر بھی شامل تھی۔

اسی ضلع میں ایک اور معاملے میں ’شری رام‘ کے نام سے درخواست دی گئی، جس نے حکومتی طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے۔

مشرقی چمپارن میں’سونالیکا ٹریکٹر‘ کے نام پر درخواست آئی، جس میں ایک بھوجپوری فلم اداکارہ کی تصویر بھی لگی تھی۔

محمد سمیع احمد نے کہا کہ ’’ڈاگی بابو کے نام سے جو ڈومیسائل سرٹیفیکٹ بنا تھا اسے تو سرکاری اہلکار نے بنایا تھا۔ جو بعد میں پکڑا گیا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بقیہ جگہوں پر لوگوں نے درخواست تو دی لیکن وہ اہلکاروں کی نگاہ میں آگئی۔

ڈومیسائل سرٹیفیکٹ اتنا اہم کیوں؟

بہار میں اس سال کے اواخر میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ انتخابات حکمران بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل وغیرہ کے لیے سیاسی ‍زندگی اور موت کا سوال بن گئے ہیں۔ بہار میں ایس آئی آر کے بعد یہ عمل مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں بھی شروع کرنے کی خبریں ہیں۔

الیکشن سے قبل حکومت نے ووٹرز لسٹ پر نظرثانی کا فیصلہ کیا۔ لیکن الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اس کے لیے جو طریقہ کار اپنایا ہے وہ انتہائی پیچیدہ اور متنازع ہے۔

مثلاﹰ آدھار کارڈ، جسے بیشتر سرکاری خدمات، حتیٰ کہ اسکولوں اور ہسپتالوں میں داخلے کے لیے ضروری بنا دیا گیا ہے اور جس کی بنیاد پر پاسپورٹ اور ووٹر کارڈ بنائے جاتے ہیں، اسے الیکشن کمیشن نے 'ویلڈ ڈاکیومنٹ‘ ماننے سے انکار کر دیا۔

محمد سمیع احمد کہتے ہیں،’’دلچسپ بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آدھار کارڈ کو تسلیم نہیں کرتا جو کے بنیادی کارڈ ہے، ووٹر کارڈ کو نہیں مان رہا ہے جو اسی کا دیا ہوا ہے۔ راشن کارڈ حکومت کا جاری کردہ ہوتا ہے لیکن کمیشن اسے بھی ماننے کو تیار نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کو بہت پریشانی ہو رہی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ’’یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ڈومیسائل سرٹیفیکٹ بنانے کے لیے آدھار کارڈ ضروری۔

دوسری طرف ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے لیے آدھار کارڈ کو تسلیم نہیں کیا جارہا ہے۔‘‘

محمد سمیع احمد نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ نے بھی کہا تھا کہ آدھار کارڈ، ووٹر کارڈ اور راشن کارڈ کو ویلڈ دستاویز تسلیم کیا جائے۔ اور الیکشن کمیشن اس کی بنیاد پر لوگوں کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کرے۔

سیاسی ردعمل

ان واقعات نے سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔

اپوزیشن کانگریس کے رہنما رندیپ سنگھ سرجے والا نے بہار انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے ’ٹرمپ‘ واقعہ پر ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’بہت سے لوگ اسے مذاق سمجھ کر ہنسیں گے اور آگے بڑھ جائیں گے، لیکن ذرا سوچیے… یہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ بہار میں 'الیکٹورل رول ریویژن‘ کا پورا عمل ایک فراڈ ہے اور ووٹ چرانے کا طریقہ ہے۔

‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’الیکشن کمیشن کی جانب سے بہار کے 65 لاکھ ووٹرز کو فہرست سے ہٹانا انتخابی جمہوریت پر براہ راست حملہ ہے۔ اب یہ فراڈ سب کے سامنے آ چکا ہے، جس کے خلاف کانگریس اور راہول گاندھی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایسے میں خاموش رہنا جرم ہے۔ آئیں، آواز اٹھائیں اور جمہوریت کے محافظ بنیں۔‘‘

65 لاکھ ووٹروں کا اخراج

بہار میں ووٹرز لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کا کام جاری ہے، لیکن اسی کے ساتھ الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا ال‍زام ہے کہ ریاست کی حکمراں جنتا دل یو اور بی جے پی اپنے انتخابی فائدے کے مدنظر اپوزیشن جماعتوں کے ووٹروں کا نام ووٹرز لسٹ سے نکلوا رہی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کا کہنا ہے کہ کانگریس پارٹی ممکنہ شکست کے مدنظر افواہیں پھیلا رہی ہے۔

اس دوران سپریم کورٹ نے بدھ کو الیکشن کمیشن آف انڈیا سے کہا کہ وہ بہار کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے نکالے گئے 65 لاکھ ووٹروں کی انفرادی تفصیلات اور وجوہات پیش کرے۔

عدالت نے یہ حکم ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر دیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ اخراج کی وجوہات میں ہر نام کے اخراج کی انفرادی تفصیل یا حلقہ وار یا بوتھ وار وضاحت موجود نہیں ہے۔

درخواست میں مطالبہ کیا گیا الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ وہ اسمبلی حلقے اور بوتھ وار ایسے تمام 65 لاکھ ووٹروں کی تفصیلی فہرست جاری کرے جن کے فارم جمع نہیں ہوئے، اور ہر ووٹر کے ساتھ اخراج کی وجہ (موت، مستقل منتقلی، تکرار، وغیرہ) درج کی جائے۔

ان ووٹروں کی فہرست بھی مانگی گئی ہے جن کے فارم بوتھ لیول پر افسران کی طرف سے 'نامنظور‘ کیے گئے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو 9 اگست تک تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی۔ اس معاملے کی سماعت 12 اگست کو طے ہے۔

اپوزیشن سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ایک سمری رویژن جنوری میں کی تھی اور اب یہ کہہ رہا ہے کہ پینسٹھ لاکھ لوگ درست درج نہیں تھے تو سوال یہ ہے کہ انہوں نے گزشتہ عام انتخابات میں کیسے ووٹ دیے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ الیکشن فرضی ووٹر لسٹ پر کیا گیا تھا۔

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے مزید کہا الیکشن کمیشن ا دھار کارڈ ووٹرز لسٹ بہار میں ووٹر لسٹ کی کوشش جاری ہے ٹرمپ کے بہار کے کارڈ کو میں ایک کیا گیا رہی ہے کی گئی کہا کہ کے نام کے لیے

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد