امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ 15 اگست کو الاسکا میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے، تاکہ روس کی یوکرین کیخلاف 4 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر بات کی جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکا کے صدر کی حیثیت سے ان کی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی طویل عرصے سے متوقع ملاقات آئندہ جمعہ یعنی 15 اگست کو ریاست الاسکا میں ہوگی۔ ’مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی، اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔‘

یہ بھی پڑھیں:

روسی صدر پیوٹن نے آخری بار 2021 میں کسی امریکی صدر سے ملاقات کی تھی، جب وہ جینیوا میں صدر جو بائیڈن سے ملے تھے، صدر ٹرمپ اور صدر پیوٹن کی آخری ملاقات 2019 میں جاپان کے شہر اوساکا میں جی20 اجلاس کے دوران ہوئی تھی۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے کسی بھی معاہدے میں کچھ علاقوں کا تبادلہ شامل ہوگا۔ ’یہ معاملہ بہت پیچیدہ ہے لیکن ہم کچھ علاقے واپس لیں گے اور کچھ کا تبادلہ ہوگا، اس میں دونوں کے لیے بہتری ہوگی، لیکن اس پر بات یا تو بعد میں یا کل ہوگی۔‘

مزید پڑھیں:

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں طے پائی ہے جب گزشتہ مہینوں میں صدر ٹرمپ اور صدر پیوٹن کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے وقت دعویٰ کیا تھا کہ وہ جلد جنگ ختم کر دیں گے، اور صدر پیوٹن سے اپنے تعلقات کی بنیاد پر امن معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

مہینوں تک انہوں نے صدر پیوٹن پر زیادہ دباؤ ڈالنے سے گریز کیا تاکہ امن کے راستے میں رکاوٹ نہ آئے۔ تاہم حالیہ دنوں میں روس کے یوکرین پر بڑھتے حملوں کے بعد ٹرمپ کا رویہ سخت ہوا ہے، انہوں نے ماسکو پر مزید سخت پابندیوں اور روسی تیل کے اہم خریدار بھارت پر بھاری محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔

مزید پڑھیں:

6  اگست کو صدر ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ماسکو میں صدر پیوٹن سے ملاقات کی، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے پیش رفت کا عندیہ دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا اچھا امکان ہے کہ ہم اس طویل سفر کے اختتام کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ ’یہ سفر طویل تھا اور اب بھی جاری ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ملاقات ہوگی۔‘

یوکرین اور یورپ کے حکام نے ماسکو پر الزام لگایا ہے کہ وہ جنگ بندی میں تاخیر کر رہا ہے، جبکہ روسی فوج مشرقی یوکرین میں اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے، یوکرین نے بھی روس کے اندر گہرائی تک ڈرون حملے کیے ہیں۔

مزید پڑھیں:

مئی میں روسی اور یوکرینی حکام نے برسوں بعد پہلی براہِ راست امن بات چیت ترکی میں کی تھی، لیکن صدر پیوٹن اس میں شریک نہیں ہوئے، اس وقت صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں مسئلہ صرف ان کی اور صدر پیوٹن کی براہِ راست ملاقات سے حل ہو سکتا ہے۔

’چاہے آپ کو یہ پسند ہو یا نہ ہو، کچھ نہیں ہونے والا جب تک ہم دونوں اکٹھے نہیں بیٹھتے لیکن ہمیں اسے حل کرنا ہوگا، کیونکہ بہت سے لوگ مر رہے ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹیو وٹکوف الاسکا امریکا روس صدر پیوٹن صدر ٹرمپ یوکرین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیو وٹکوف الاسکا امریکا صدر پیوٹن یوکرین اور صدر پیوٹن تھا کہ

پڑھیں:

وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم

سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری  وفد کی ملاقات،وزیر اعظم  نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے  پاک چین  دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا

وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے  سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 اس منصوبے سے  ملک میں  زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور  تربیت کو ان منصوبوں  کا حصہ بنایا جائے۔

 جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو  نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی  ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے  پر بات چیت کی جارہی ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں

ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر  اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی  کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل