جنوبی کوریا نے چین سے تعلقات بحال کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, August 2025 GMT
بیجنگ:
جنوبی کوریا نے گزشتہ کئی برسوں سے کشیدگی کے بعد چین کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا۔
خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کے وفد نے دورہ چین کے دوران بیجنگ میں بتایا کہ چین کے ساتھ حالیہ برسوں میں تعلقات خراب رہے ہیں تاہم اب امید ہے کہ تعلقات معمول پر آئیں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ نے وفد کو چین بھیج دیا ہے اور وہ خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن کے دورے پر ہیں۔
جنوبی کوریا کی اسمبلی کے سابق اسپیکر پارک بائیونگ سیوگ کی سربراہی میں وفد نے چین کے وزیرخارجہ وانگ یی سے ملاقات کی اور اپنے صدر کا چینی صدر شی جن پنگ کو لکھا گیا خط ان کے حوالے کردیا۔
پارک بائیونگ سیوگ نے چینی وزیر خارجہ کو بتایا کہ انہیں امید ہے کہ وفد کی آمد سے چین اور جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے دروازے کھل جائیں گے جو حالیہ برسوں میں خراب رہے ہیں۔
چین اور جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات 2017 میں اس وقت خراب ہوگئے تھے جب کوریا نے امریکی میزائل ڈیفنس سسٹم کی تنصیب کی تھی، جس کی چین نے مخالفت کی تھی۔
بعد ازاں 2023 میں بھی تلخ بیانات کا تبادلہ ہوا تھا جب اس وقت کے جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول نے چین کے خلاف تنقید کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جنوبی کوریا کے چین کے نے چین
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔