امریکی ٹیرف کا خوف، بھارتی حکومت نے ٹرمپ سے جڑی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلیں
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے نے ایک ایسی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلی ہیں جس کے قریبی روابط سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے رہے ہیں اور جو ماضی میں ان غیر ملکی اداروں کے حق میں وکالت کرتی رہی ہے جنہیں امریکی پابندیوں یا سخت اقدامات کا سامنا رہا۔
یہ معاہدہ اُس وقت سامنے آیا ہے جب بدھ سے بھارت کی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف نافذ ہونے جا رہا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی سفارتخانہ مرکری پبلک افیئرز ایل ایل سی کو ہر ماہ 75 ہزار ڈالر ادا کرے گا تاکہ وہ حکومتی تعلقات، میڈیا ریلیشنز اور دیگر خدمات فراہم کرے، یہ معلومات 18 اگست کو جمع کرائی گئی ایک فائلنگ میں دی گئی ہیں۔
Market is nervous about the tariffs which come into effect on 27th Aug.
— RJ Stocks (@RakJhun) August 25, 2025
مرکری کے پارٹنر برائن لانزا، جو صدر ٹرمپ کی ٹرانزیشن ٹیم میں کمیونیکیشنز ڈائریکٹر رہ چکے ہیں، اس معاہدے میں شامل افراد میں درج ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی موجودہ چیف آف اسٹاف سوزی وائلز بھی کبھی مرکری کی شریک چیئر رہی ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب حالیہ مہینوں میں امریکا اور بھارت کے تعلقات تیزی سے خراب ہوئے ہیں، وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ بدھ سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا تاکہ نئی دہلی کو روسی تیل کی خریداری پر سزا دی جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ پیوٹن مذاکرات ناکام ہوئے تو بھارت پر مزید ٹیرف لگائیں گے، امریکا کی مودی سرکار کو وارننگ
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ روسی تیل کی خریداری روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جنگ کو مالی مدد فراہم کرتی ہے، تاہم بھارتی حکام کہتے ہیں کہ یہ اقدام عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ہے اور امریکا نے پہلے اس پراعتراض نہیں کیا تھا۔
امریکا بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور نئی دہلی کو خدشہ ہے کہ بھاری ٹیرف برآمد کنندگان کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، اس کے باوجود بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات ان کی ترجیح ہیں۔
بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے حالیہ بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں حالانکہ معاملات رکے ہوئے ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو ’مردہ معیشت اور ناقابلِ برداشت تجارتی رکاوٹوں‘ کا حامل ملک قرار دیا ہے۔
مرکری کا ماضی بھی غیر ملکی کلائنٹس کے لیے متنازع لابنگ سے جڑا رہا ہے، یہ فرم اس سال کے شروع میں ڈنمارک کے سفارتخانے کے لیے کام کرچکی ہے، جو گرین لینڈ پر ٹرمپ کے قبضے کے منصوبے کے خلاف تھا۔
مزید پڑھیں: روسی تیل اور بھارتی ریفائننگ، پیسے کس نے کھرے کیے؟
اسی طرح، 2018 میں مرکری نے چینی کمپنی ہائک ویژن کے لیے لابنگ کی تھی جس پر سنکیانگ میں نگرانی کے منصوبوں کے سبب امریکا نے قدغن لگائی تھی، یہ فرم پابندیوں کی زد میں آنے والی چینی کمپنی زیڈ ٹی ای کے حق میں بھی سرگرم رہی۔
اس کے علاوہ، بھارتی ارب پتی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی ساتھی گوتھم اڈانی نے بھی صدر ٹرمپ کے دورِ حکومت میں واشنگٹن میں اپنی لابنگ سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے۔ وہ اس وقت مبینہ رشوت ستانی کے ایک مقدمے میں الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر بھارتی وزیر اعظم ٹیرف ڈونلڈ ٹرمپ لابی نریندر مودی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر بھارتی وزیر اعظم ٹیرف ڈونلڈ ٹرمپ لابی کے لیے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔