وقت کی گرد میں گم ہوتا کشمیری دستکاری کا فن
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
مظفرآباد کی گلیوں اور بازاروں میں آج بھی کشمیری ثقافت کی چند دھندلی سی جھلکیاں باقی ہیں۔
35 سال قبل سری نگر سے آنے والے لوگ اپنی آنکھوں میں آزادی کا خواب اور اپنی انگلیوں میں صدیوں پرانا ایک ہنر، ایک کلا بسا کر لائے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کا مزاحمت کاروں کے خلاف 12 روزہ طویل آپریشن ناکام، 9 فوجی ہلاک
یہ ہنر ان کے لیے صرف معاش کا سہارا نہیں بنا بلکہ اس کے ذریعے انہوں نے کشمیری روایات اور ثقافت کو بھی زندہ رکھا۔ ان کے ہاتھوں سے تراشے گئے پھیرن، شالیں اور آرائشی اشیا نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں کشمیر کی پہچان ہیں۔
مگر اب یہ ہنر اور یہ روایت وقت کی گرد میں مٹتی جا رہی ہے۔ نئی نسل نہ تو اس فن میں دلچسپی رکھتی ہے اور نہ ہی اسے روزگار کا پائیدار ذریعہ سمجھتی ہے۔
مزید پڑھیے: مقبوضہ کشمیر: پی آئی اے کے لوگو والے غبارے نے بھارتی حکام کی دوڑیں لگوا دیں
مہنگائی، مشینی پیداوار، حکومتی عدم توجہی اور بدلتے رجحانات نے اس دستکاری کو کمزور کر دیا ہے۔ کشمیر کی پہچان تراشنے والے ہاتھ آہستہ آہستہ گم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ فن جو کبھی شناخت اور روزگار دونوں تھا، دھیرے دھیرے معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ دیکھیے جنید خواجہ کی یہ ویڈیو رپورٹ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر سری نگر کشمیر کا فن دستکاری کشمیری ثقافت کشمیری دستکاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کشمیر کا فن دستکاری کشمیری ثقافت کشمیری دستکاری
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔