چیٹ بوٹ کلاڈ ہیکرز کے ہاتھوں استعمال، ڈیٹا چوری اور بلیک میلنگ
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
امریکی مصنوعی ذہانت کی کمپنی انتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ اس کی تیار کردہ آرٹیفیشل انٹیلیجینس (اے آئی) ٹیکنالوجی، جس میں چیٹ بوٹ کلاڈ شامل ہے، کو ہیکرز نے خطرناک سائبر حملوں کے لیے ہتھیار بنا لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مزاح نگاری مصنوعی ذہانت کے بس کی بات نہیں، مصنفین
بی بی سی کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی کی مدد سے نہ صرف خفیہ ڈیٹا چوری اور بلیک میلنگ کی گئی بلکہ نارتھ کوریا سے تعلق رکھنے والے افراد نے جعلی پروفائلز بنا کر امریکا کی بڑی ٹیک کمپنیوں میں ریموٹ جابز حاصل کیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے اے آئی ماڈلز کو کوڈ لکھنے، فیصلے کرنے، تاوان کی رقم تجویز کرنے اور حتیٰ کہ نفسیاتی انداز میں بلیک میلنگ میسیجز بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
ایک اور کیس میں کلاڈ کو استعمال کر کے کم از کم 17 اداروں کو نشانہ بنایا گیا جن میں بعض سرکاری ادارے بھی شامل تھے۔
مزید پڑھیے: مضامین لکھوانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر انحصار دماغ کو کمزور کرتا ہے، تحقیق میں انکشاف
انتھروپک کا کہنا ہے کہ اس نے بروقت کارروائی کر کے ان حملہ آوروں کو روک دیا اور متعلقہ حکام کو اطلاع دے دی گئی ہے ساتھ ہی ڈیٹیکشن ٹولز کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے باعث زیادہ متاثر ہونے والی نوکریاں کون سی ہیں؟
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کی مدد سے حملوں کی رفتار میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور سیکیورٹی پالیسیوں کو ردعمل کے بجائے پیشگی تحفظ کی جانب منتقل کرنا ہو گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انتھروپک کمپنی کلاڈ چیٹ بوٹ کلاڈ ہیک ہیکرز ہیکنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ہیکرز ہیکنگ کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔