بھارتی بینک میں بیف پارٹی، ملازمین کا انوکھا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
بھارت کی جنوبی رہاست کیرالہ کے شہر کوچین میں کینرا بینک کے ملازمین نے انوکھا احتجاج کیا۔
ریجنل منیجر کی جانب سے دفتر کی کینٹین میں بیف پر پابندی لگانے کے بعد ملازمین نے بینک کے باہر ’بیف پارٹی‘ منعقد کی، جہاں بیف اور پراٹھے پیش کیے گئے۔
A controversy erupted at #CanaraBank’s regional office in #Kochi after a newly appointed manager from #Bihar reportedly banned beef from being served in the office canteen.
— News9 (@News9Tweets) August 30, 2025
یہ احتجاج اصل میں مبینہ ہراسانی کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا، لیکن بیف پر پابندی کی خبر سامنے آنے پر اس نے نیا رخ اختیار کر لیا۔
بینک ایمپلائز فیڈریشن کا کہنا ہے کہ کھانے پینے کی پسند ہر شخص کا ذاتی اور آئینی حق ہے۔
ریاستی سیاسی رہنماؤں نے بھی ملازمین کی حمایت کی۔ آزاد رکن اسمبلی کے ٹی جلیل نے کہا کہ یہ فیصلہ افسروں کا نہیں کہ لوگ کیا پہنیں یا کھائیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں گائے سے بدفعلی، ویڈیو منظرعام پر آنے پر لوگوں میں اشتعال
یاد رہے کہ کیرالہ میں بیف عام طور پر استعمال ہوتا ہے اور 2017 میں بھی وفاقی حکومت کی جانب سے مویشیوں کے ذبح پر پابندی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت بیف کیرالہ کینرا بینک گائے گائے کا گوشت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت بیف کیرالہ کینرا بینک گائے گائے کا گوشت
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔