ملائکہ اروڑا نے فٹ رہنے کے 3 بنیادی اصول بتا دیے
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
بالی وڈ کی مشہور اداکارہ ملائکہ اروڑا نے 50 سال کی عمر میں بھی اپنی فٹنس کو برقرار رکھنے کے لیے تین اہم اصول شیئر کیے ہیں، جو انہیں بڑھتی عمر کے باوجود تندرست رہنے میں مدد دیتے ہیں۔
انڈین میڈیا کے مطابق، ملائکہ اروڑا کو بالی وڈ میں فٹنس کی مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے بڑھتی عمر کے ساتھ اپنے فٹنس روتین کو بے مثال انداز میں برقرار رکھا ہے۔ اداکارہ سوہا علی خان کے ساتھ پوڈ کاسٹ میں بات کرتے ہوئے 51 سالہ ملائکہ نے اپنے فٹنس راز اور زندگی کے اصولوں کا ذکر کیا۔
ملائکہ کا کہنا تھا کہ میں 50 سال کی ہوگئی ہوں، لیکن یہ صرف ایک نمبر ہے۔ یہ میری شناخت یا شخصیت نہیں بتاتا۔” ان کا کھانے کے بارے میں نقطہ نظر سادگی اور قدرتی غذا پر مرکوز ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سادہ اور گھر کا پکایا کھانا کھائیں، اور مجھے گھی سب سے زیادہ پسند ہے۔ ان کے مطابق، نیند، پانی، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی جیسے بنیادی اصولوں کا خیال رکھنے سے زندگی میں بڑا فرق آتا ہے۔
ملائکہ اروڑا نے مزید کہا کہ “ورزش کے بعد سپلیمنٹس کی بجائے گھر کا کھانا کھائیں، اور اگر پروٹین شیک پینا ہو تو کیلے، کھجور اور میوے بہترین انتخاب ہیں۔ وہ زیادہ ورزش کرنے کے بجائے ایک متوازن روٹین کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “میں جلدی اٹھتی ہوں، ورزش کرتی ہوں، اور پھر پیٹ بھر کر کھاتی ہوں۔
یہ اصول ملائکہ اروڑا کی تندرست زندگی اور فٹنس کے راز کی نمائندگی کرتے ہیں، جو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی سکون کی جانب بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ملائکہ اروڑا
پڑھیں:
سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے کراچی(Karachi) اور گوادر(Gwadar) بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں، جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 سے بڑھ جائے گی، خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں، پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔