عروب جتوئی کی عبوری ضمانت سے متعلق عدالت کا فیصلہ آگیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
سیشن کورٹ نے یوٹیوبر ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کی عبوری ضمانت میں 15 ستمبر تک توسیع کر دی۔
رپورٹ کے مطابق سیشن کورٹ لاہور میں جوئے کی تشہیر کے مقدمے میں یوٹیوبر ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کی عبوری ضمانت پر سماعت ہوئی۔
ملزمہ عروب جتوئی اپنے وکیل چوہدرى عثمان علی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل سیشن جج نے عروب جتوئی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ این سی سی اے نے انکوائری نوٹس بھجوایا ہے۔ ڈر ہے کہ این سی سی آئی اے گرفتار کرلے گا۔ درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انکوئری میں شامل تفتیش ہونے کے لیے تیار ہیں عدالت عبوری ضمانت منظور کرے۔
این سی سی آئی اے کو 15 ستمبر تک عروب جتوئی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے عدالت نے آئندہ سماعت پر این سی سی آئی اے سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: عروب جتوئی کی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔