جاپان کے محققین نے بتایا کہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرتے اور رات دیر سے کھاتے ہیں، ان میں اوسٹیوپوروسس یعنی ہڈیوں کے ٹوٹنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا ناشتہ واقعی دن کا سب سے اہم کھانا ہے یا یہ صرف ایک گھسا پٹا مقولہ ہے؟

یہ عادتیں اکثر دیگر غیر صحت مند طرزِ زندگی جیسے ورزش نہ کرنا، تمباکو نوشی اور ناکافی نیند کے ساتھ جڑ جاتی ہیں۔

تحقیق میں جاپان کے 927,000 سے زیادہ لوگوں کے صحت کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

ناشتہ نہ کرنے اور دیر سے کھانے کے اثرات

نتائج کے مطابق، ناشتہ نہ کرنے والے افراد میں ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ 18 فیصد زیادہ تھا، رات دیر سے کھانے والے افراد میں خطرہ 8 فیصد اور سگریٹ نوشی کرنے والوں میں 11 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔

اگر کوئی شخص ناشتہ نہ کرے اور رات دیر سے کھائے، تو ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ 23 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

دیگر عوامل جو خطرہ بڑھاتے ہیں

روزانہ شراب پینا، ورزش نہ کرنا اور نیند کی کمی بھی ہڈیوں کے ٹوٹنے کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔

وٹامن ڈی اور کیلشیم کی کمی کا کردار

ناشتہ نہ کرنے والے افراد میں وٹامن ڈی اور کیلشیم کی کمی بھی دیکھی گئی، جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ اوسٹیوپوروسس ایک طرزِ زندگی سے جڑی بیماری ہے، اور صحت مند عادات اپنانے سے ہڈیوں کے ٹوٹنے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جاپانی محقیقین رات کا کھانا ناشتہ ہڈیاں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جاپانی محقیقین رات کا کھانا ناشتہ ہڈیاں ناشتہ نہ کرنے رات دیر سے

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ