ناشتہ نہ کرنے اور رات دیر سے کھانا کھانے کا ہڈیوں پر کیا اثر ہوتا ہے؟ محقیقین کا چونکا دینے والا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
جاپان کے محققین نے بتایا کہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرتے اور رات دیر سے کھاتے ہیں، ان میں اوسٹیوپوروسس یعنی ہڈیوں کے ٹوٹنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا ناشتہ واقعی دن کا سب سے اہم کھانا ہے یا یہ صرف ایک گھسا پٹا مقولہ ہے؟
یہ عادتیں اکثر دیگر غیر صحت مند طرزِ زندگی جیسے ورزش نہ کرنا، تمباکو نوشی اور ناکافی نیند کے ساتھ جڑ جاتی ہیں۔
تحقیق میں جاپان کے 927,000 سے زیادہ لوگوں کے صحت کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
ناشتہ نہ کرنے اور دیر سے کھانے کے اثرات
نتائج کے مطابق، ناشتہ نہ کرنے والے افراد میں ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ 18 فیصد زیادہ تھا، رات دیر سے کھانے والے افراد میں خطرہ 8 فیصد اور سگریٹ نوشی کرنے والوں میں 11 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔
اگر کوئی شخص ناشتہ نہ کرے اور رات دیر سے کھائے، تو ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ 23 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
دیگر عوامل جو خطرہ بڑھاتے ہیں
روزانہ شراب پینا، ورزش نہ کرنا اور نیند کی کمی بھی ہڈیوں کے ٹوٹنے کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔
وٹامن ڈی اور کیلشیم کی کمی کا کردار
ناشتہ نہ کرنے والے افراد میں وٹامن ڈی اور کیلشیم کی کمی بھی دیکھی گئی، جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اوسٹیوپوروسس ایک طرزِ زندگی سے جڑی بیماری ہے، اور صحت مند عادات اپنانے سے ہڈیوں کے ٹوٹنے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جاپانی محقیقین رات کا کھانا ناشتہ ہڈیاں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جاپانی محقیقین رات کا کھانا ناشتہ ہڈیاں ناشتہ نہ کرنے رات دیر سے
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔