گلگت بلتستان حکومت کا ہیلی کاپٹر چلاس کے قریب گر گیا، ریسکیو کارروائیوں کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
گلگت بلتستان حکومت کے ہیلی کاپٹر کو چلاس کے قریب حادثہ پیش آیا ہے۔
ترجمان گلگت بلتستان حکومت کے مطابق گرنے والے ہیلی کاپٹر میں 2 پائلٹ اور ٹکنیکل عملے کے 2 افراد سوار تھے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر فنی خرابی کے باعث لینڈنگ کے دوران گر گیا۔ حادثے کے بعد ریسکیو حکام کو جائے وقوعہ پر پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گلگت بلتستان: سیلاب کے بعد امدادی سرگرمیاں جاری، ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مریض گلگت منتقل
دوسری طرف ہیلی کاپٹر گرنے کی جگہ پر دھواں اٹھنے کے مناظر دیکھے گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چلاس گلگت ہیلی کاپٹر حادثہ گلگلت بلتستان حکومت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چلاس بلتستان حکومت گلگت بلتستان ہیلی کاپٹر
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔