ابھیشیک سے منگنی ٹوٹنے کے بعد میں ایک خول میں سمٹ گئی تھی، کرشمہ کپور
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
ممبئی (شوبز ڈیسک) بھارتی فلمی دنیا کے عظیم کپور خاندان سے تعلق رکھنے والی کرشمہ کپور کی زندگی خوشیوں اور غموں، کامیابی اور ناکامی، شہرت اور تنہائی کا ایک امتزاج ہے۔ ایک طرف ان کا فلمی ستارہ آج بھی روشن ہے، تو دوسری طرف ذاتی زندگی نے کئی بار انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ منگنی کا ٹوٹ جانا، شادی کی تلخیاں اور پھر سابق شوہر کی اچانک موت—یہ سب کچھ ان کی زندگی کو ایک دردناک داستان بناتے ہیں۔
کرشمہ کپور اپنے کیریئر کے عروج پر تھیں جب ان کی منگنی بالی ووڈ کے ابھرتے اداکار ابھیشیک بچن سے طے پائی۔ بچن خاندان کی بہو بننے کی خبر نے مداحوں میں جوش و خروش کی لہر دوڑا دی۔ یہاں تک کہ جیا بچن نے ایک تقریب میں کرشمہ کو اپنی آئندہ بہو قرار دیا۔ مگر کچھ ہی عرصے بعد یہ رشتہ خاموشی کے ساتھ ٹوٹ گیا۔ دونوں خاندانوں نے کبھی عوامی سطح پر وجہ بیان نہ کی، لیکن کرشمہ نے اس دور کو اپنی زندگی کا ’’سب سے صدمہ خیز‘‘ وقت قرار دیا۔
2003 میں ایک انٹرویو میں کرشمہ نے بتایا کہ اس مرحلے پر انہوں نے خود کو پردے کے پیچھے کر لیا اور باوقار خاموشی اختیار کی۔ ان کا کہنا تھا: ’’میں ہمیشہ کم بولنے والی رہی ہوں، اس لیے اپنے دکھ سب کے سامنے نہیں لانا چاہتی تھی۔‘‘ ان کے مطابق وقت ہی سب سے بڑا مرہم ہے جس نے رفتہ رفتہ انہیں صدمے سے باہر نکالا۔
یہ افواہیں بھی پھیلیں کہ منگنی ٹوٹنے کی وجہ کرشمہ کی والدہ ببیتا کپور اور بچن خاندان کے اختلافات تھے، تاہم کرشمہ نے ہمیشہ کہا کہ اصل سہارا انہیں اپنے گھر والوں سے ملا۔ ان کے بقول: ’’اگر میرے والدین، بہن، دادی جی، پھوپھیاں اور قریبی دوست نہ ہوتے تو میں کبھی سنبھل نہ پاتی۔‘‘
اسی سال ستمبر میں کرشمہ نے معروف بزنس مین سنجے کپور سے شادی کی۔ یہ تقریب بالی ووڈ کی سب سے شاندار شادیوں میں شمار ہوئی۔ دونوں کے ہاں بیٹی سمائرا اور بیٹا کیان پیدا ہوئے، لیکن ایک دہائی بعد یہ رشتہ بھی انجام کو پہنچا اور دونوں الگ ہو گئے۔
نیا صدمہ اس وقت آیا جب 12 جون 2025 کو سنجے کپور لندن میں ایک پولو میچ کے دوران اچانک انتقال کر گئے۔ بتایا گیا کہ وہ شہد کی مکھی نگلنے کے باعث شدید الرجی اور دل کا دورہ پڑنے سے جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی موت نے بھارت سمیت عالمی کاروباری حلقوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی وفات سے کچھ دن پہلے سنجے نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا:
“زندگی محدود ہے، ‘اگر’ اور ‘کاش’ فلسفیوں کے لیے چھوڑ دیں…”
ان کے یہ جملے اب ایک کڑوی یاد کی طرح لوگوں کے دلوں میں گونج رہے ہیں۔
سنجے کی موت کے بعد کرشمہ اپنی اولاد کے ساتھ دہلی پہنچیں جہاں آخری رسومات ادا کی گئیں۔ اس موقع پر ان کی بہن کرینہ کپور اور بہنوئی سیف علی خان بھی ان کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔
کرشمہ کپور کی کہانی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ روشنیوں کے اس جہاں میں بھی زندگی کے سائے بہت گہرے ہو سکتے ہیں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کرشمہ کپور
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔