امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تازہ انٹرویو میں کہا کہ 2023 میں 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے  اسرائیل کے لیے ہمدردی پیدا ہوئی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ لوگ اسے بھولتے جا رہے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر نے انٹرویو میں کہا کہ ماضی میں اسرائیل امریکی کانگریس میں سب سے طاقتور لابی ہوا کرتا تھا اور سیاست دان اس کے خلاف بات کرنے سے گریز کرتے تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اب حالات یکسر بدل چکے ہیں اور اسرائیل کی لابی خاص طور پر کانگریس میں کافی کمزور ہوئی ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل اگرچہ غزہ کی جنگ میں فوجی اعتبار سے کامیابیاں حاصل کر رہا ہے لیکن دنیا کی نظر میں وہ یہ جنگ ہار رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ غزہ میں جنگ جاری رکھنے سے اسرائیل کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انھیں اب یہ جنگ ختم کرنی ہوگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل غزہ میں جنگ جیت رہے ہیں لیکن دنیا کی نظر میں ہار رہے ہیں۔ یہ جنگ اب اسرائیل کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ کے فوری اختتام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل مزید عالمی تنقید سے بچنا چاہتا ہے تو جنگ اب ختم کردے۔

یاد رہے کہ غزہ میں جنگ کے طویل ہونے سے نہ صرف امریکا اور برطانیہ بلکہ دیگر مغربی ممالک میں بھی اسرائیل کے خلاف رائے عامہ بڑھتی جا رہی ہے۔

فرانس، برطانیہ اور بیلجیئم جیسے اہم اتحادی ممالک نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے جو اسرائیل کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل

نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

نئی قیمتیں نافذ

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔

عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہ

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔

اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم