شنگھائی تعاون تنظیم کے تیانجن اجلاس کی غیر معمولی اہمیت، ڈالر کا متبادل لانا کیا آسان عمل ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
بین الاقوامی تناظر میں چین اپنی بہت بڑی معیشت کے ساتھ گلوبل ساؤتھ یا عالمی جنوب کی سربراہی کرتا دِکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ روز چین کے شہر تیانجن میں اختتام پذیر ہونے والا شنگھائی تعاون تنظیم کا اِجلاس بین الاقوامی طور پر مرکزِ نگاہ رہا اور دنیا بھر کے اہم نشریاتی اداروں میں اجلاس کو خصوصی کوریج دی گئی۔
امریکا کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ کے بعد سے دیگر بین الاقوامی اتحاد اور تنظیمیں فروغ پا رہی ہیں اور متبادل تجارتی نظام لانے کی بات چیت ہو رہی ہے۔ 6 اور 7 جولائی کو برازیل میں ہونے والے برِکس تنظیم کے اجلاس میں بھی یہ بات کی گئی اور اب چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں روس نے تنظیم کے 10 رُکن ممالک کے درمیان مشترکہ بانڈز جاری کرنے کی تجویز دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: ایس سی او اجلاس: چینی صدر نے رکن ممالک کے لیے ترقیاتی بینک قائم کرنے کی تجویز دیدی
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یہ تجویز دی کہ ایس سی او کے 10 رکن ممالک مشترکہ بانڈز جاری کریں، جو ان کے معاشی تعاون کو مزید گہرا کرنے کا ایک اہم قدم ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ ایک مشترکہ ادائیگیوں کا نظام قائم کیا جائے تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے لین دین کو سہولت دی جا سکے۔
اس کے علاوہ پیوٹن نے مشترکہ سرمایہ کاری منصوبوں کے لیے ایک بینک قائم کرنے کی حمایت کی، جس کا مقصد معاشی تبادلے کو زیادہ مؤثر بنانا اور بیرونی معاشی اتار چڑھاؤ سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
تیانجن میں ہونے والے اِجلاس کی غیر معمولی اہمیتشنگھائی تعاون تنظیم کے تیانجن میں ہونے والے اجلاس کو اس بار غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی، جس کی کچھ اہم وجوہات ہیں۔
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات صدر شی جن پنگ سے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ملاقات کی۔ اس اجلاس میں چین اور بھارت کے درمیان گزشتہ 5 سال سے چلی آ رہی مخاصمت میں کمی دیکھنے میں آئی۔ سربراہی اِجلاس میں پہلگام واقعے اور جعفر ایکسپریس سمیت دہشتگردی کی تمام شکلوں کی مذمت کی گئی۔ اجلاس میں بھارت نے پاکستان کا ساتھ دینے کی بنا پر آذربائیجان کی مکمل رُکنیت کی راہ میں رکاوٹ ڈال دی۔ اجلاس میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تعاون بڑھانے کے لیے بھی اتفاق کیا گیا۔ تیانجن اجلاس کئی وجوہات کی بنا پر بہت اہم تھا: ملک ایوب سنبلبیجنگ میں چینی میڈیا سے وابستہ پاکستانی جیو پولیٹیکل تجزیہ نگار ملک ایوب سنبل نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ تیانجن میں ہونے والا شنگھائی تعاون تنظیم کا اِجلاس بہت اہم تھا، اس اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ ممالک سمیت دنیا بھر کی توجہ گلوبل ساؤتھ کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ابتدائی طور پر جب یہ تنظیم بنی تو اِس کا مینڈیٹ سیکیورٹی تھا لیکن اب اس کا مینڈیٹ سیکیورٹی سے کافی آگے بڑھ گیا ہے۔ اب یہ مینڈیٹ تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی اور ثقافتی تبادلوں تک بڑھ گیا ہے۔ جب سے یہ تنظیم بنی ہے پانچویں بار اِس کی صدارت چین کے پاس آئی ہے جو ایک موقع ہے کہ چین اب نئی ایجادات کی بنیاد پر ترقی کی بنیاد رکھے۔
ملک ایوب نے کہاکہ شنگھائی تعاون تنظیم ایک ملٹی لیٹرل فورم ہے۔ اس تنظیم میں چین اور دیگر رکن ممالک کے درمیان تجارتی حجم 512 ارب ڈالر ہے جو سالانہ 3 فیصد کے حساب سے بڑھ رہا ہے جس سے چین کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور اثر و رسوخ کے بارے میں پتا چلتا ہے۔
اُنہوں نے کہاکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رُکن ممالک کے پاس عالمی قدرتی گیس کے ذخائر کے 20 سے 25 فیصد ذخائر موجود ہیں جس کی وجہ سے ایس سی او ریجن عالمی طور پر سرمایہ کاری اور شراکت داری کے لیے بڑا انتخاب بنتا جا رہا ہے۔
’اس کے علاوہ یہ کہ ایس سی اور ریجن میں دنیا کی 42 فیصد آبادی رہتی ہے۔ چین کے فعال کردار سے اِس خطے میں ماحول دوست توانائی، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، رابطہ کاری کے میدانوں میں ترقی ہو سکتی ہے۔‘
ملک ایوب نے کہاکہ تیانجن سربراہی اجلاس کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایس سی او کے پیمانے اور اس کی صلاحیت کو دیکھنا ہوگا۔ یہ تنظیم عالمی آبادی کا 42 فیصد اور یوریشیا کی آبادی کا 65 فیصد نمائندگی کرتی ہے۔ معاشی طور پر یہ عالمی جی ڈی پی میں قریباً 23 فیصد حصہ ڈالتی ہے، جو اسے عالمی معیشت میں ایک اہم کھلاڑی بناتی ہے۔
’ایس سی او اب جغرافیائی سیاسی مصروفیات کے لیے ایک مرکز بن رہی ہے‘ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں شرکت کی سطح بے مثال تھی۔ مشرق وسطیٰ، افریقہ، اور دیگر عالمی جنوب کے ممالک سے رہنماؤں اور نمائندوں کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایس سی او اب نئی شراکت داریوں، سرمایہ کاری کے مواقع اور جغرافیائی سیاسی مصروفیات کے لیے ایک مرکز بن رہی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تنظیم عالمی استحکام اور ترقی کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایس سی او کا مستقبل بہت روشن ہے، یہ تنظیم عالمی سطح پر ایک ایسی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے جو کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دیتی ہے۔ اس کا غیر مداخلت کا اصول، مشترکہ ترقی پر توجہ اور جامع نقطہ نظر اسے مغربی اداروں سے مختلف بناتا ہے۔ تیانجن سربراہی اجلاس نے یہ واضح کیا کہ ایس سی او نہ صرف معاشی اور اسٹریٹجک وزن رکھتی ہے بلکہ یہ عالمی استحکام اور ترقی کے لیے ایک حقیقی قوت بھی بن سکتی ہے۔
ملک ایوب نے کہاکہ چین کی قیادت میں تنظیم نئے شعبوں جیسے کہ مصنوعی ذہانت، سبز توانائی اور ڈیجیٹل رابطوں میں تعاون کو فروغ دے گی۔ اس کے علاوہ رکن ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے اور عوامی سفارت کاری عالمی سطح پر باہمی افہام و تفہیم کو بڑھانے میں مدد کریں گے۔ میرا خیال ہے کہ ایس سی او آئندہ برسوں میں عالمی گورننس کے ڈھانچے کو نئی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ڈالر کا متبادل لے کر آنا آسان نہیں، ڈاکٹر ساجد امینسسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ساجد امین نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ڈالر کا متبادل لانے کی باتیں تو کی جا رہی ہیں لیکن یہ اتنا آسان معاملہ نہیں۔ دنیا بھر میں نئے اقتصادی بلاکس بنتے ہیں، نئے اتحاد جنم لیتے ہیں، نئی کرنسیاں بنتی ہیں لیکن ایک پہلے سے موجود چیز کو ہٹانا مشکل ہوتا ہے۔ ایک موقع پر یورو نے بھی ڈالر کا متبادل بننے کی کوشش کی تھی لیکن ناکام ہو گیا۔
ڈاکٹر ساجد امین نے کہاکہ ڈالر کی مضبوطی میں تین وجوہات کا بہت بڑا دخل ہے۔ پہلے نمبر پر یہ کہ امریکا کی معیشت کا حجم اتنا بڑا ہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ امریکا دنیا میں زیادہ تر ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اِس لیے دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کا انقطاع ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایس سی او اجلاس میں جعفر ایکسپریس، خضدار اور پہلگام حملوں کی مذمت، مشترکہ اعلامیہ جاری
’دوسری وجہ معدنی تیل کی ادائیگیاں ہیں جو ڈالر میں کی جاتی ہیں اور تیسری وجہ ڈالر کی ساکھ اور اُس کا استحکام ہے۔ دنیا میں کئی مُلکوں میں جو بارٹر ٹریڈ کی باتیں ہوتی ہیں وہ چھوٹے پیمانے پر تو ممکن ہیں لیکن بڑے پیمانے پر ممکن نہیں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایس سی او چینی صدر ڈالر کا متبادلہ روس شنگھائی تعاون تنظیم عالمی معیشت غیرمعمولی اہمیت وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایس سی او چینی صدر ڈالر کا متبادلہ شنگھائی تعاون تنظیم عالمی معیشت غیرمعمولی اہمیت وی نیوز شنگھائی تعاون تنظیم تیانجن میں ہونے ڈالر کا متبادل میں ہونے والے تنظیم عالمی کہ ایس سی او سرمایہ کاری ایس سی او ا کے لیے ایک رکن ممالک کے درمیان اجلاس میں ممالک کے تنظیم کے جلاس میں ملک ایوب نے کہاکہ یہ تنظیم میں چین ا جلاس چین کے رہی ہے
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر