رحمت اللعالمینؐ سے محبت کے تقاضے
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
بے شمار و اَن گنت درود و سلام خاتم النبیین رحمت اللعالمینؐ کی بابرکت اور باکمال ذات اقدس پر کہ جن کے دنیا میں تشریف لانے سے انسان اور انسانیت کو بام عروج ملا۔
آپؐ کی ذات باکمال کو اللہ تعالیٰ نے صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام مخلوقات کے لیے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا اور ایسے اخلاق سے سنوار کربھیجا کہ آپؐ کی ساری زندگی قرآن مجید کی عملی تفسیر ہے جس میں انسان کی ہر عمر اور ہر رشتے کے لیے عملی نمونہ موجود ہے جس کے تحت زندگی گزارنے والا ہر انسان نہ صرف دنیا میں کامیاب ہو سکتا ہے بلکہ آخرت میں کامیابی کے لیے درکار اعمال کا ذخیرہ بھی آسانی سے کرسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی فلاح اور تعلیم کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس دنیا میں بھیجے جن سب پر ہمارا یقین کامل ہے لیکن ان میں سے ہر کوئی اپنے علاقے، مخصوص زمانے یا قوم کے لیے بھیجا گیا تھا۔ سب نے اس وقت کے لوگوں کو حق، سچ اور توحید کی تعلیم دی اور ہر نبی اپنا کام مکمل کرکے اس دنیا سے چلا گیا اور آہستہ آہستہ ان کے بعد ان کے پیروکاروں نے ان کی تعلیمات میں تبدیلی کردی۔
اسی طرح نبی رحمتؐ پر اترنے والی آسمانی کتاب قران مجید سے پہلے اترنے والی آسمانی کتابیں اور صحیفے بھی بعد میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث اپنی اصل شکل میں قائم نہ رہ سکے، اس کے علاوہ ان کی تعلیمات مخصوص زمانے اور قوموں کے لیے قابل عمل تھیں۔ لیکن قربان جائیں خاتم النبیین رحمت اللعالمینؐ کے مقام اور رتبے پر کہ جو نہ صرف ایک زمانے کےلیے نبی بن کر آئے، نہ کسی مخصوص قوم کےلیے اور نہ ہی ایک مخلوق کےلیے بلکہ آپؐ رحمت اللعالمین بن کر آئے تو قیامت تک کےلیے اور اس کائنات میں موجود ہر مخلوق کےلیے ایک محسن بن کر مبعوث ہوئے۔
آپؐ کی ذات سے جن و انس، حیوان، چرند پرند، درخت، زمینی، ہوائی، سمندری، خلائی اور اس کے علاوہ بھی اس کائنات میں چھپی وہ مخلوق جس کے اجسام اور معمولات ہماری عقل سے ماورا ہیں، سب ہی یکساں طور پر ہدایت پانے اور مستفید ہونے کے اہل ہیں اور آپؐ کی تعلیمات اور سنت پر عمل پیرا ہوکر دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
ہماری زندگی کا کون سا ایسا طبقہ یا شعبہ ہے کہ جس کے بارے میں حضورؐ کی مثالی تعلیمات موجود نہ ہوں اور معاشرے کا کون سا ایسا رشتہ ہے جس کے بارے میں حضورؐ کی زندگی ہمارے لیے کھلی کتاب نہ ہو، کیوں کہ آپؐ کائنات کی واحد ہستی ہیں جن کی جلوت کے علاوہ خلوت بھی ہمارے سامنے ہے۔
آپؐ محسن کائنات ہیں اور وجہ تخلیق کائنات ہیں تو ایسی ہستی کی آمد پر جس قدر بھی خوشی منائی جائے وہ کم ہے۔ اس لیے جیسے ہی ریبع الاول کے ماہ مبارک کا آغاز ہوتا ہے تو ہمارے پورے ملک کے شہر شہر اور گاؤں گاؤں جشن کا سماں پیدا کر دیتے ہیں۔ گلیاں اور بازار جھنڈیوں اور آرائشی دروازوں سے سجا دیے جاتے ہیں اور رات کو گھروں اور دیگر عمارتوں پر چراغاں کا بندوبست کیا جاتا ہے، جب کہ ہر طرف سیرت نبویؐ پر کانفرنسیں اور پروگرام پیش کیے جارہے ہوتے ہیں اور مساجد اور گھروں میں محافل میلاد، نعت خوانی سے حضورؐ کی ذات اقدس میں محبت اور عقیدت کے پھول نچھاور کیے جاتے ہیں۔
اس سارے سلسلے کا عروج 12 ربیع الاول کا دن ہوتا ہے جس دن آپؐ کی میلاد کا دن منایا جاتا ہے۔ جس دن یہ ساری سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ ہر شہر، ہر گاؤں اور محلے میں نعت خوانی کے جلوس نکالے جاتے ہیں جن کا سلسلہ رات تک چلتا رہتا ہے۔ راستوں میں سادہ اور میٹھے پانی کی سبیلوں کا انتظام ہوتا ہے اور ساتھ طعام کا بندوبست بھی ہوتا ہے اور یوں یہ سارا سلسلہ ریبع الاول کے پورے ماہ مبارک میں چلتا رہتا ہے۔
حضورؐ سے محبت کے اظہار کےلیے صرف ایک طریقہ نہیں ہے، چونکہ ہمارے ہاں ایک سے زیادہ مسالک موجود ہیں اور ہر ایک بلاشبہ حضورؐ کو محسن کائنات اور خاتم النبیین مانتا ہے، لہٰذا سب کے نزدیک آپؐ کی آمد سے زیادہ کوئی خوشی نہیں ہے۔ اس لیے ہر کوئی اپنے طریقہ اور عقیدہ کے مطابق حضورؐ کی میلاد کی خوشی مناتا ہے۔ یہاں ہمارا مقصد بین المسالک اختلافات پر بحث کرنا بالکل بھی نہیں ہے بلکہ اس بات کا مقصد یہ ہے کہ حضورؐ کے میلاد پر خوشی سے کسی کو انکار نہیں، بس اس کے منانے کےلیے ہر ایک کا اپنا طریقہ کار ہے۔ جیسے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غم منانے میں کسی کو اختلاف نہیں لیکن محرم الحرام کے مہینے میں ان کا غم منانے کا ہر ایک کا اپنا طریقہ ہے، جس میں کسی کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ آپؐ کی آمد پر خوشی تو صرف انسان نہیں بلکہ ہر مخلوق پر فرض ہے کیوں کہ آپؐ کی ذات سب کےلیے رحمت اللعالمین ہے۔
اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ حضورؐ سے محبت کے اور آپؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کےتقاضے کیا محض ربیع الاول کے مہینے میں جلسے جلوس نکالنے، جھنڈیاں اور آرائشی گیٹ لگانے اور نعت خوانی کی محافل سجانے سے پورے ہوجاتے ہیں؟ محض زبانی کلامی دعووں سے کیا ہم اس کامیابی کا دعویٰ کرسکتے ہیں جو حقیقی معنوں میں صرف حضورؐ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی بدولت ہی حاصل کی جاسکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔
بلاشبہ میلاد کی خوشی کے رائج طریقہ سے محبت کا اظہار بھی کامیابی کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہوسکتی ہے لیکن محض معاشرے میں رائج رسم و رواج میں شرکت کرنے اور ان کا حصہ بننے سے کلی کامیابی کی دلیل نکالنا کسی دیوانے کے خواب سے زیادہ نہیں ہے۔ 12 ربیع الاول کی پہلی دوسری اور تیسری رات مردوں اور عورتوں کی ٹولیاں آرائشی گیٹ دیکھنے کی مہم پر روانہ ہوتے ہیں اور اس مخلوط رش میں مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کون سا اور کتنا ثواب ملتا ہے۔
ان سارے حالات و واقعات میں کبھی ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جب روز آخرت اس ذات سے سامنا ہوگا تو ہم کیا منہ لے کر ان کے پاس جائیں گے؟ کیا ہم سارا کچھ وہی کر رہے ہیں جس کا حکم آپؐ نے دیا ہے اور اس چیز سے ہم نے منہ موڑا ہوا ہے جس سے آپؐ نے منع کیا ہے؟ اس سوال کا جواب یقیناً نفی میں ہے۔
اگر ہم آج اپنے معاشرے کی تصویر کھلی آنکھ سے دیکھ لیں تو ہم خود ہی سمجھ جائیں گے کہ رحمت اللعالمینؐ سے محبت کے تقاضے ہم کس قدر پورے کررہے ہیں۔ ہم اپنے کاروباری اور لین دین کے معاملات دیکھ لیں یا شادی بیاہ کے رسم و رواج دیکھ لیں، اپنوں سے بڑوں اور چھوٹوں سے اپنا برتاؤ دیکھ لیں، اپنے ہمسائے سے اپنی غم خواری اور خبر گیر ی دیکھ لیں۔ اولاد اپنے والدین کی اطاعت و فرماں برداری سے نکل گئی، شاگرد کے نزدیک اپنے استاد کی عزت نہ رہی، عفو و درگزر میں ہم کہاں کھڑے ہیں، ہم کس قدر صادق و امین ہیں، یہ بھی ہم سب جانتے ہیں۔
حضورؐ کو اپنے ماں باپ، اولاد، بہن بھائیوں، ساری دنیا حتیٰ کہ اپنے آپ سے بھی محبوب سمجھنے کا مطلب صرف اس بات کا دعویٰ کرنا نہیں بلکہ اپنے ہر معاملے میں آپؐ کی ہر بات کو حرف آخر سمجھ کر اس پر عمل کرنا ہے۔ جب کہ ہمارے معاشرے میں کون سی اخلاقی، معاشرتی اور سماجی برائی نہیں ہے جو بدرجہ اتم نہ پائی جاتی ہو۔ چاہے قول و فعل میں تضا د کا معاملہ ہو، رشوت، سفارش، اقربا پروری اور جھوٹ کی بات ہو تو ان سارے معاملات میں ہم خود کفیل ہوچکے ہیں اور دنیاوی ترقی میں بھی ہم دن بدن تنزلی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ تو ان ساری برائیوں کے ہوتے ہوئے کیا ہم رحمت اللعالمینؐ سے سچی محبت کا دعوٰی کرسکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔
آئیے! ہم اپنے آپ کو پہچانیں کہ ہم کس ذات بابرکتؐ کے امتی ہیں، ان کے پیغام کو سمجھیں کہ وہ ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے۔ یہ بات جان لیں کہ رحمت اللعالمینؐ سے محبت کا تقاضا ہم سے زبانی بڑھکیں نہیں عملی ثبوت مانگتا ہے۔ ہمیں صحیح معنوں میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہونا پڑے گا، دنیاوی رسم و رواج کے بجائے ان تعلیمات پر عمل کرنا پڑے گا جن کا حکم رحمت اللعالمینؐ نے دیا ہے اور ہر اس چیز سے خود کو روکنا ہوگا جس سے آپؐ نے روکا ہے یا ناپسند کیا ہے۔
آئیے اپنی زندگی میں رسم رواج کم اور عملی کام زیادہ کریں اور وہ عملی کام جن کی بدولت ہم اس قابل ہوسکیں کہ روزِ آخرت رحمت اللعالمینؐ کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رحمت اللعالمین کی تعلیمات سے محبت کے دیکھ لیں ہوتا ہے نہیں ہے ہیں اور بھی ہم ہے اور کی ذات کے لیے اور ہر اور اس
پڑھیں:
ناتمام (آخری قسط)
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘
’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘
مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔
ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘
پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"
پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔
بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘
کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔
پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔
کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔
’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘
ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔