وزیراعظم شہباز شریف سے فلسطینی صدر کے مشیر کی ملاقات، پاکستان کی فلسطین سے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے فلسطینی صدر کے مشیر برائے مذہبی امور اور شرعی عدالت کے چیف جسٹس محمود صدیقی الھباش نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔
وہ سیرت کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان آئے ہوئے فلسطینی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ ملاقات میں مسجد اقصیٰ کے امام احمد حسین اور پاکستان میں فلسطینی سفیر بھی شریک تھے۔
وزیراعظم نے اس موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس کے لیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا نے فلسطینی صدر محمود عباس کو اقوام متحدہ کے اہم اجلاس میں شرکت سے روک دیا
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر سفارتی فورم پر فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے بھرپور آواز بلند کرتا رہے گا۔
شہباز شریف نے غزہ کی موجودہ انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پاکستان وہاں متاثرہ عوام کے لیے انسانی امداد جاری رکھے گا، جو اسرائیلی قابض افواج کی جارحیت اور محاصرے کے باعث سنگین مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
فلسطینی صدر کے مشیر نے پاکستانی عوام اور حکومت کی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور فلسطین کے درمیان تعلقات برادرانہ اور تاریخی بنیادوں پر قائم ہیں۔
مزید پڑھیں: فلسطینی صدر اور غزہ کے عوام کا پوپ لیو چہاردہم سے امن مشن جاری رکھنے کا مطالبہ
انہوں نے پاکستان میں حالیہ سیلاب پر افسوس کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ مشکل وقت میں پاکستان فلسطین کے لیے تقویت کا باعث ہے۔
ملاقات کے دوران صدر محمود عباس کا ایک خط بھی وزیراعظم کو پیش کیا گیا۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، معاون خصوصی طارق فاطمی، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، سیکرٹری خارجہ اور سیکریٹری مذہبی امور بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فلسطینی صدر کہ پاکستان کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔