پاکستان کی پہلی خاتون پولیس افسر شہربانو نقوی ایشیا سوسائٹی فیلو شپ کیلیے منتخب
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
لاہور:
پاکستانی خاتون پولیس افسر شہربانو نقوی کو شاندار اعزاز حاصل ہوگیا، ایشیا سوسائٹی 21 نیکسٹ جنریشن فیلو شپ کے لیے منتخب ہوگئیں۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق اے ایس پی شہر بانو نقوی ایشیا 21 نیکسٹ جنریشن فیلو شپ کے لیے منتخب ہونے والی پاکستان کی تاریخ کی پہلی خاتون پولیس افسر ہیں۔
ایشیا سوسائٹی نے اے ایس پی شہربانو نقوی کو کلاس آف 2025ء میں معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ، سسٹم میں تبدیلی کے حوالے سے گراں قدر کاوشوں، خدمات کے لیے منتخب کیا۔ ایشیا 21 نیکسٹ جنریشن فیلو شپ کے لیے خطے کے 27 ممالک سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے 30 افراد کی غیر معمولی کارکردگی زیرغور آئی۔
اے ایس پی شہربانو نقوی کو پاکستان بھر کی نمائندگی کرتے ہوئے ایشیا 21 نیکسٹ جنریشن فیلوشپ کے لئے منتخب کیا گیا۔
ایشیا 21 نیکسٹ جنریشن سمٹ اسی سال 5 تا 7 دسمبر فلپائن کے شہر منیلا میں منعقد ہوگی، جس میں منتخب کیے گئے خواتین اور مرد معاشرے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کریں گے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے اے ایس پی شہربانو نقوی کو دنیا بھر میں پاکستان اور پنجاب پولیس کا نام روشن کرنے پر مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کے افسران کی کارکردگی کی عالمی سطح پر پذیرائی پاکستان پولیس سروس کیلئے فخر کی بات ہے، اے ایس پی شہربانو نقوی جیسی باصلاحیت افسران مستقبل میں پولیس لیڈر شپ کیلئے اہم کردار ادا کریں گی۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ایشیا سوسائٹی خطے میں سماجی خدمات کے شعبے میں نوجوان لیڈرز کے اہم کردار کے حوالے سے وسیع، موثر اور پروفیشنل تنظیم ہے، سوسائٹی ایشیا بھر سے ہر سال اپنے اپنے شعبوں میں تعمیر و ترقی، قائدانہ کردار کے مالک افراد کا انتخاب کرتی ہے، ایشیا سوسائٹی خطے میں مختلف کمیونٹی کے لوگوں کے تحفظ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے نظریہ پر کاربند ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان اے ایس پی شہربانو نقوی ایشیا 21 نیکسٹ جنریشن شہربانو نقوی کو ایشیا سوسائٹی پنجاب پولیس لیے منتخب فیلو شپ کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔