ٹرمپ کے قریبی ساتھی ‘چارلی کرک’ قاتلانہ حملے میں ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
امریکی ریاست یوٹاہ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور قدامت پسند رہنما *چارلی کرک* قاتلانہ حملے میں جان کی بازی ہار گئے۔
تفصیلات کے مطابق چارلی کرک یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے جب اُنہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ فائرنگ 200 یارڈ کے فاصلے پر موجود ایک عمارت سے کی گئی، جس کے نتیجے میں گولی اُن کی گردن میں لگی۔ انہیں فوری طور پر تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔
اس افسوسناک واقعے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چارلی کرک ایک عظیم اور تاریخی شخصیت تھے جو اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ چارلی کرک نہ صرف ان کے بلکہ بے شمار لوگوں کے پسندیدہ رہنما تھے۔ انہوں نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: چارلی کرک
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔