معروف یوٹیوبر اقرا کنول ماں بن گئیں، سوشل میڈیا پر مبارکبادوں کا ڈھیر
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
معروف پاکستانی یوٹیوبر اقرا کنول ماں بن گئی ہیں۔ انہوں نے انسٹاگرام پر ایک جذباتی پیغام کے ذریعے اپنی بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری مداحوں کے ساتھ شیئر کی۔
سسٹرولوجی چینل کے ذریعے شہرت پانیوالی اقرا کنول اوران کے شوہراریب پرویز نے انسٹاگرام پر مداحوں کو یہ خوشخبری سنائی کہ ان کی دیرینہ دعا 10 ستمبر کو پوری ہوئی، جب ان کی ننھی شہزادی دنیا میں آئی۔
View this post on Instagram
A post shared by Dr.
اس موقع پر جوڑے نے اپنی ننھی بیٹی کے ساتھ ایک دلکش تصویر بھی شیئر کی جس میں دونوں محبت بھری نگاہوں سے نومولود کو دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے اسے اپنی دعاؤں کا حسین جواب قرار دیا۔
اقرا کنول نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ آج ہماری زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہماری بیٹی ہمیں مل گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی کی گرفتاری پر ’سسٹرولوجی‘ کی اقرا کنول کا مؤقف بھی سامنے آگیا
’جب ہم نے اُسے اپنی بانہوں میں لیا تو جو محبت محسوس ہوئی، اُسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘
اقرا کنول کی اس پوسٹ پر مداحوں اور چاہنے والوں کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ سب نے نومولود کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا ہے۔
اقرا کنول نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ان کے شوہر اریب کی ہمیشہ خواہش تھی کہ پہلی اولاد بیٹی ہو۔ ’اللہ نے ہماری یہ دعا سب سے حسین انداز میں قبول کر لی، الحمدللہ۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اریب پرویز اقرا کنول انسٹا گرام بیٹی ماں یوٹیوبر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اریب پرویز اقرا کنول انسٹا گرام بیٹی یوٹیوبر اقرا کنول
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔