WE News:
2026-06-03@08:12:03 GMT

15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی تجویز

اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT

15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی تجویز

فرانس میں ایک پارلیمانی کمیشن نے ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بچوں اور نوجوانوں پر نفسیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے بعد یہ تجویز دی ہے کہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

کمیشن نے مزید تجویز دی ہے کہ 15 سے 18 سال تک کے نوجوانوں کے لیے ’ڈیجیٹل کرفیو‘ نافذ کیا جائے، جس کے تحت ان عمر کے افراد کو رات 10 بجے سے صبح 8 بجے تک سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت نہ ہو۔

یہ کمیشن مارچ 2025 میں اس وقت قائم کیا گیا جب سات خاندانوں نے ٹک ٹاک کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ان کے بچوں کو ایسا مواد دکھایا گیا جس نے انہیں خودکشی پر مجبور کیا۔

یہ بھی پڑھیے آسٹریلیا میں نابالغوں پر سوشل میڈیا پابندی: سرکاری رپورٹ میں بڑے انکشافات

کمیشن نے اپنی تحقیقات کے دوران متاثرہ خاندانوں، ٹک ٹاک کے عہدیداروں، سوشل میڈیا ماہرین اور انفلوئنسرز کے بیانات سنے۔

ایک ماں (جیرالڈین، 52 سالہ) نے بتایا کہ ان کی بیٹی پینیلوپ نے 18 برس کی عمر میں خودکشی کر لی۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ ٹک ٹاک پر خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق ویڈیوز دیکھ اور پوسٹ کر رہی تھی۔

 اس کی والدہ کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے لیے بطور والدین کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے۔

ٹک ٹاک کا مؤقف

چین کی کمپنی بائٹ ڈانس (ByteDance) کی ملکیت ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ بچوں کی حفاظت اس کی ’اولین ترجیح‘ ہے۔ کمپنی کے مطابق نامناسب مواد کا 95 فیصد 24 گھنٹوں کے اندر ہٹا دیا جاتا ہے۔ 90 فیصد مواد اس سے پہلے حذف کر دیا جاتا ہے کہ کوئی اسے دیکھ سکے۔

کمیشن کی مزید سفارشات

اگر آئندہ 3 سال میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے یورپی یونین کے ’ڈیجیٹل سروسز ایکٹ‘ کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو 18 سال سے کم عمر تمام افراد پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

سوشل میڈیا کے خطرات کے بارے میں عوامی آگاہی مہم چلائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: 16 سال سے کم عمر بچوں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنایا تو کتنی سزا ہوگی؟

’ڈیجیٹل غفلت کا جرم‘ متعارف کرایا جائے تاکہ غیر ذمہ دار والدین کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے کے وقت عمر کی تصدیق کا نظام لازمی قرار دیا جائے۔

رکاوٹیں اور خدشات

سوشل میدیا پلیٹ فارمز کی طرف سے مزاحمت، تکنیکی مسائل اور انفرادی آزادیوں پر قدغن کے خدشات اس تجویز کے نفاذ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

یورپی تناظر

فرانس، اسپین اور یونان سمیت کئی یورپی ممالک نے یورپی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے آن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال کو مزید ریگولیٹ کیا جائے، کیونکہ ان کے نشے، سائبر بُلنگ اور نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ سے شدید خطرات لاحق ہیں۔

 یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ فرانس میں بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر کنٹرول کے لیے سخت اقدامات زیر غور ہیں، تاہم اس پر بحث بھی جاری ہے کہ کیا یہ پابندیاں بچوں کو محفوظ بنائیں گی یا ان کی آزادی سلب کریں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سوشل میڈیا پابندی فرانس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پابندی سال سے کم عمر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ٹک ٹاک کے لیے

پڑھیں:

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف  سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر  میاں افتخار حسین نے نیشنل  سائبرکرائم  انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)  میں  درخواست جمع کرادی۔

 ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا  پر مذہبی بنیادوں  پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز  مہم  قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر  سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد  اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔

امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام

میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ  این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری  اور شفاف  تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد  پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سمرکیمپ سے متعلق احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر تعلیم پنجاب
  • ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت