پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے کہا کہ سیاسی کمیٹی کے فیصلے پر قومی اسمبلی سے استعفے نہیں ہوں گے۔ عمران خان کا فیصلہ ہی مانا جائے گا۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاندانہ گلزار کا کہنا تھا کہ اگر اسمبلیوں سے استعفے ہوں گے تو پھر قومی اسمبلی، سینیٹ کے ساتھ ساتھ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا اسمبلی سے بھی استعفے ہوں گے اور اجتماعی ہوں گے۔

ان سے پوچھا گیا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی فیصلہ کرے کہ صرف قومی اسمبلی سے استعفیٰ دینا ہے لیکن خیبر پختونخوا کی اسمبلی کو مورچے کے طور پر سنبھال کر رکھنا تو پھر آپ کا کیا ردعمل ہوگا؟

شاندانہ گلزار کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کون مانے گا؟ عمران خان کا فیصلہ آئے گا تو مانا جائے گا۔ سیاسی کمیٹی کا فیصلہ نہیں مانا جائے گا کیونکہ اس میں زیادہ تر لوگ غیر منتخب ہیں۔

یہ بھی پڑھیے سیاسی کمیٹی میں مشکوک کردار، ہم عمران خان کو رہا نہیں کرا سکتے تو بہتر ہے مستعفی ہوجائیں، شاندانہ گلزار

واضح رہے کہ شاندانہ گلزار ماضی میں بھی اجتماعی استعفوں کی حامی رہی ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے خلاف بیان جاری کرتی رہی ہیں۔

انہوں نے گزشتہ برس ایک ٹی وی شو میں کہا تھا کہ اگر ہم عمران خان کو جیل سے باہر نہیں نکال سکتے تو بہتر ہے کہ مستعفی ہوجائیں۔

شاندار گلزار کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی میں بہت سے مشکوک کردار ہیں، شہریار آفریدی نے استعفے کی دھمکی دی تو میں نے بھی کہا تھا کہ ہم استعفے دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے عمران خان مردم شناس نہیں، رہنما پی ٹی آئی شاندانہ گلزار

انہوں نے کہاکہ اسمبلی میں کمیٹی کمیٹی کھیلنے اور ڈیسک بجانے سے گھر بیٹھ جانا ہی بہتر ہے، پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی میں ایسے مشکوک کردار موجود ہیں جو 9 مئی کے بعد غائب رہے۔

شاندانہ گلزار نے کہاکہ شہریار آفریدی کے بعد شیر افضل مروت نے بھی اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دینے کی بات کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان تحریک انصاف شاندانہ گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف شاندانہ گلزار پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی شاندانہ گلزار قومی اسمبلی اسمبلی سے کا فیصلہ تھا کہ ہوں گے

پڑھیں:

عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔

اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔

ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔

مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب