مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، فتنۃ الہندوستان کے سرگرم 4 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
MASTUNG:
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کرکے بھارت کی سرپرستی میں سرگرم 4 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور اسلحہ و بارود بھی برآمد کرلیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 12 ستمبر کو بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کی اور اطلاع ملی تھی کہ علاقے میں بھارت کے پراکسی نیٹ ورک فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد موجود ہیں۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دوران آپریشن سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں بھارت کی سرپرستی میں سرگرم 4 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
کارروائی کے حوالے سے بتایا گیا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
آئی ایس پی ار نے بتایا کہ ہلاک دہشت گرد علاقے میں متعدد تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے۔
کارروائی کے بعد علاقے کو کلیئر کرنے کے لیے سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ملک میں بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا اور دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز آئی ایس پی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔